نذیر خان کے دو بچے دمے کا شکار ہیں۔ یہ آلودگی صرف ہوا تک ہی محدود نہیں، ایک یونیورسٹی کے طالب علم محمّد مست خان کا کہنا ہے کہ پتھر پیسنے کے عمل سے یہاں کا پانی بھی آلودہ ہورہا ہے۔ ہم آلودہ پانی پینے اور آلودہ ماحول میں رہنے پر مجبور ہیں۔
پاکستان سٹوریز رپورٹ
ملک کے شمالی علاقہ جاتاور پہاڑی علاقہ جات میں آبادیوں، تفریحی مقامات پر قائم کرش مشینوں کی آلودگی سے دمے کے علاوہ بہرہ پن کے مرض میں ہوش ربا اضافہ۔ اکثریت کرش مشنیں غیر قانونی طور پر قائم کی گئیں ہیں جو کہ بااثر افراد کی ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پہاڑی مکین ملک میں ہونے والی ترقی کی قیمت دمے اور دیگر سانس کی بیماریوں بشمول فضائی اور سماعی آلودگی کی شکل میں ادا کررہے ہیں، جوکہ مسلسل پتھروں کے پیسنے اور مشینوں کے چلنے سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ عمارتی تعمیرات اور سڑکوں کے لئے خام مال مہیا کرتی ہیں لیکن جہاں ان عمارتوں اور سڑکوں سے شہری علاقے فائدہ اٹھاتے ہیں وہیں پہاڑوں کے غریب دیہی مکین اسکی بھاری قیمت چکاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں فضائی آلودگی سے متعلق زیادہ توجہ گاڑیوں سے پیدا ہونے والی آلودگی اور دھوئیں کو دی جاتی ہے، چاہے وہ کھیتوں کو صاف کرنے کے لئے لگائی جانے والی آگ ہو یا ٹریفک۔ جسطرح یہ عناصر ہوائی آلودگی پیدا کرنے کی بڑی وجہ ہیں خاص کر جلنے کے بعد یہ عناصر پھیپڑوں اور خون میں شامل ہوجانے والے دو اعشاریہ پانچ مائیکرون سے چھوٹے ذرّات میں تبدیل ہوجاتے ہیں، اسی طرح پتھروں کو توڑنے اور مہین ذرّات میں تبدیل کرنے سے بھی دو اعشاریہ پانچ مائیکرون کی ذرّاتی آلودگی پیدا ہوتی ہے، لیکن اسے یکسر نظرانداز کردیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ پہاڑی علاقوں پر قائم کرش مشنیں ان کے مالکوں کو بے پناہ منافع دیتی ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ ان علاقوں میں انتہائی بااثر افراد کرش مشنیں قائم کرتے ہیں۔ ضلع ایبٹ آباد کے کئی علاقوں میں کرش مشنیں قائم ہیں جبکہ ایسی ہی کرش مشنیں لورہ اور ٹھنڈیانی کے علاقوں میں آبادیوں کے درمیاں واقع ہیں جہاں کے مقیم ان کے خلاف احتجاج بھی کرتے رہتے ہیں مگران کی کوئی بھی نہیں سنتا ہے۔ صوبائی حکومت خیبر پختوں کے محکمہ صنعت کے مطابق ٹھنڈیانی کے علاقے میں بارہ لائسنس یافتہ مشینیں کام کررہی ہیں جبکہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ شوکت علی، پاکستان کے شمالی صوبے خیبر پختونخواہ کے شہر ایبٹ آباد میں ایک پرائیویٹ اسکول کے پرنسپل ہیں، اسکول معروف سیاحتی مقام ٹھنڈیانی کے قریب ایک دیہی علاقے میں واقع ہے۔
شوکت علی کا کہنا ہے کہ یہ مشینیں آبادی کے قریب لگائی گئی ہیں اور چوبیس گھنٹے کام کرتی ہیں اور بڑی مقدار میں آلودگی پیدا کرنے کا باعث ہیں جس سے پورے علاقے خاص کر بچوں کی صحت متاثر ہورہی ہے۔ ”ہمارے علاقے میں بیس ہزار سے زائد افراد پانچ ہزار گھروں میں رہ رہے ہیں، ہرگھرمیں آپ کو ایک دمے کا مریض اور سانس کی بیماریوں کے شکار بچے ملیں گے”۔ انہوں نے مزید بتایا کہ چوبیس گھنٹوں میں ایک بار بارود کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ ”دھماکے کے بعد پورے علاقے میں دھول مٹی پھیل جاتی ہے۔ چوبیسوں گھنٹے دھماکوں اور مشینوں کا شور ہماری سماعت کو متاثر کر رہا ہے۔ ہم معمولی شور کی آواز نہیں سن سکتے”۔ حتیٰ کہ رات کی پرسکون نیند تک ان لوگوں کو میسر نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ”ہم یہ جگہ چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں لیکن کوئی ہمارے گھر نہیں خریدے گا”۔
علاقہ مکین نذیر خان کہتے ہیں کہ انکی زندگی جہنم بن گئی ہے لیکن حکام سے بہترے شکایات کے باوجود کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ ”ہم مکان اور زمینیں بیچ کر کہیں اور منتقل ہوجانا چاہتے ہیں لیکن کوئی بھی خریدار نہیں حتیٰ کہ کم ترین قیمت پر بھی نہیں۔ جبکہ یہاں رہنے کا مطلب بیماریوں اور موت کو دعوت دینا ہے”۔
نذیر خان کے دو بچے دمے کا شکار ہیں۔ یہ آلودگی صرف ہوا تک ہی محدود نہیں، ایک یونیورسٹی کے طالب علم محمّد مست خان کا کہنا ہے کہ پتھر پیسنے کے عمل سے یہاں کا پانی بھی آلودہ ہورہا ہے۔ ”ہم آلودہ پانی پینے اور آلودہ ماحول میں رہنے پر مجبور ہیں ”،۔
ایبٹ آباد کے ضلعی ہیلتھ افسر، ڈاکٹر قاسم نے بتایا کہ دمے کے دیگر سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے، لیکن حکومت کی طرف سے کسی قسم کے متعلقہ اعداد و شمار جمع نہیں کیئے گے۔ چونکہ ایبٹ آباد اور ایسے دوسرے شہروں میں آلودگی کی کوئی اور بڑی وجہ موجود نہیں اس لئے پتھر پیسنے کی مشینیں ہی ان بیماریوں کی وجہ ہوسکتی ہیں۔
صوبہ خیبر پختوں کے چوبیس اضلاع سے اسی قسم کی شکایات سننے کو ملی ہیں۔ صوبائی انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ چوبیس اضلاع میں چھ سو پندرہ پتھر پیسنے کی مشینوں کو کام کرنے کی منظوری دی گئی ہے، ان میں سے زیادہ تر ہمالیائی علاقوں میں دریائی طاس یا سندھ کے ساتھ واقع ہیں جبکہ مارکیٹ کے ذرائع کے مطابق انڈسٹری میں لاقانونیت اور اصول شکنی کی وجہ سے مشینوں کی تعداد شاید اس سے کہیں زیادہ ہے جو بتائی گئی ہے۔ علاقے میں پائے جانے والے بہترین چونے کے پتھر کی وجہ سے یہاں پتھر پیسنے کے کام میں اضافہ ہوا ہے، خاص کر تعمیراتی کاموں اور سیمنٹ کی تیاری میں اس کی بڑی مانگ ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق اس انڈسٹری میں منافع اور کارکنوں کے حوالے سے کوئی حکومتی مطالعہ موجود نہیں۔ سال دو ہزار دس میں ساؤتھ ایشیا نیٹ ورک آف دی اکنامک ریسرچ انسٹیٹوٹس کی ایک تحقیق کے مطابق سالانہ آمدنی ایک بلین یو ایس ڈالرز سے زیادہ ہے اور تقریباً آدھ ملین افراد اس صنعت میں کام کررہے ہیں۔ سنہ دو ہزار دس سے تعمیراتی کاموں میں بیپناہ اضافہ ہوا ہے۔ انڈسٹری سے وابستہ صحت کے مسائل سے بھی سبھی واقف ہیں، ”پھیپڑوں کا سرطان، مائکو بیکٹیریل یا فنگل انفیکشن جیسے پھیپڑوں کا تپ دق، دائمی سوجن۔
خیبر پختون خواہ کے سابقہ اٹارنی جنرل.مہدی زمان کے مطابق، ”پتھر پیسنے کی مشینیں یا کرش مشین انسانی سرگرمیوں کے علاقے سے کم ز کم ایک کلومیٹر دور نصب کی جانی چاہییں؛ چاہے وہ صرف ایک سڑک یا پگڈنڈی ہی کیوں نہ ہو”۔ لیکن مقدمات کے بعد بھی غیر قانونی کھدائی اور پتھر پیسنے کا کام جاری ہے، باوجود متضاد عدالتی حکم کے۔ زمان صاحب نے بتایا، ” زیادہ تر مشینیں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتی ہیں اور حکام سب سے بڑی خلاف ورزی یعنی انسانی جانوں کو لاحق خطرے پر خاموش ہیں ”۔
ماحولیاتی وکیل ظفر اقبال ایڈووکیٹ کہتے ہیں، ” ہماری خوبصورت ترین وادیوں میں موجود یہ پتھر پیسنے کی مشینیں قدرتی جغرافیائی حسن اور آثار قدیمہ کو تباہ کر رہی ہیں۔ صاف ستھرے ماحول کی جگہ انڈسٹری کی بدبو اور گاڑیوں اور مشینوں کے شور نے لے لی ہے”۔