جمعہ, اپریل 4, 2025
ہومUncategorizedپاکستان تھیلیسما سے انتہائی متاثرہ ملک کئی خاندان متاثر

پاکستان تھیلیسما سے انتہائی متاثرہ ملک کئی خاندان متاثر

پاکستان کو ہر سال دس لاکھ لیٹر خون کی ضرورت ہے اور اندازہ لگائیں کہ پانی کی ٹینکی کی قیمت بھی اس وقت پانچ ہزار روپیہ ہے۔ دنیا بھر میں مناسب قانون سازی کی بدولت تھیلیسما پر قابو پا لیا گیا ہے مگر پاکستان میں اب بھی 2.5 ملین تھیلیسما کے مریض موجود ہیں جن کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ تھیلیسما پر مناسب قانون سازی کی بدولت قابو پایا جاسکتا ہے مگر ابھی تک ایسا ممکن نہیں ہوسکا، مزید پڑھیں۔

 

Kashif Iqbal Thalassemia centre

پاکستان سٹوریز رپورٹ

دعووں کے باوجود ملک کے چاروں صوبوں بشمول آزاد کشمیر، گگت بلستان اور فاٹا میں تھیلیمسا کی روک تھام کے لیئے قانون سازی نہ ہوسکی۔ صوبہ پنجاب کے علاوہ قانون سازی کے لیئے ایسی کسی تجویز پر سنجیدگی سے غور بھی نہیں ہورہا۔ پاکستان کا شمار تھیلسیما سے انتہائی متاثرہ ملک میں ہوتا ہے جہاں پر ہر سال ایک اندازے کے مطابق چھ ہزار بچے سے زائد متاثرہ بچے پیدا ہوتے ہیں جبکہ متاثرہ مریضوں کی تعداد 2.5ملین جن میں ایک لاکھ وہ مریض ہیں جنھیں زندگی بھر خون کی ضرورت رہتی ہے۔ یورپ، امریکہ نے قانون سازی کے بعد تھیلیسما کے مرض پر قابو پالیا ہے جبکہ سعودی عرب، ایران، ملائیشیا، ترکی اور دیگر اسلامی ممالک نے بھی قانون سازی کرکے مریضوں میں ریکارڈ کمی کی ہے۔

وڈیو کہانی دیکیں

غیر سرکاری اداروں سے دستیاب معلومات کے مطابق اس وقت پاکستان میں کل تھیلیسما کے مریضوں کی تعداد کم از کم 2.5ملین ہوسکتی ہے۔ ان میں کم از کم ایک لاکھ وہ مریض ہیں جنھیں زندگی بھر خون کی ضرورت رہتی ہے۔

ماہرین کے مطابق تھیلسیما کا مرض خاندان میں پہ در پہ شادیاں کرنے سے پیدا ہوتا ہے جس میں تھیلسمیا مانیئر (minor)کا مرض خطرناک نہیں ہوتا ہے اور اس مرض کا شکار عموما نارمل زندگی گزارتا ہے مگر یہ ہی تھیلسمیا مانیئر اس وقت خطرناک صورتحال اختیار کرجاتا ہے جب وہ تھیلسمیا مانیئر یعنی تھیلسمیا مانیئر کے مرض میں مبتلامرد اور خاتون کی آپس میں شادی ہوتی ہے تو پھر اس بات کے 99 فیصد امکانات بڑھ جاتے ہیں ان کے پیدا ہونے والے تھیلسیما کی انتہائی حالت یعنی تھیلسمیا میجر(major)کا شکار ہوگیا جس کو ساری زندگی خون اور علاج معالجے کی ضرورت رہی گی۔

 

غیر سرکاری اداروں کے مطابق پاکستان میں ہر سال کم از کم چھ ہزار تھیلسیما میجر بچے ہورہے ہیں۔ غیر سرکاری اداروں کے مطابق یہ تعداد کم از کم ہے اور محتا اندازوں پر مشتمل ہے جبکہ وہ اس بات کا بھی اظہار کررہے ہیں کہ یہ تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ سرکاری طور پر تھیلسیما کے حوالے سے صوبوں کے ہسپتالوں میں ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔

ماہرین کے مطابق تھیلسیما میجر کا شکار بچے کو اپنی ساری زندگی خون کی ضرورت رہتی ہے اور وہ ہمشیہ خطرے ہی کا شکار رہتا ہے۔ غیر سرکاری اداروں کے مطابق تھیلسمیا سے بچاؤ کا واحد راستہ صرف اور صرف قانون سازی ہے جس میں شادی سے پہلے بلڈ سکینگ کروانا اور اگر دو تھیلسمیا مانیئر کی شادی پر پابندی ہے۔

غیر سرکاری اداروں کے مطابق اس طرح کے قانون کی مدد سے امریکہ اور یورپ میں گزشتہ سترہ، اٹھارہ سال سے ایک بھی تھیلمسیا کا بچہ پیدا نہیں ہوا ہے اور وہاں پر اب تھیلسیما کے مریضوں کی تعداد انگلیوں پر رہ چکی ہے جبکہ کئی اسلامی ممالک جن میں سعودی عرب، ایران،ملائیشیا ترکی اور دیگر شامل ہیں نے بھی ایسی ہی قانون سازی متعارف کروا دی ہے جس کی وجہ سے تھیلسمیا کے مریضوں کی تعداد میں ریکارڈ کمی پیدا ہورہی ہے۔

کاشف تھیلیسما سنٹر کے بانی محمد اقبال نے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے انتہائی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کہ اس وقت اگر ملک میں ایک لاکھ تھیلسمیا کے انتہائی شکار مریض موجود ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کو ہر سال دس لاکھ لیٹر خون کی ضرورت ہے اور اندازہ لگائیں کہ پانی کی ٹینکی کی قیمت بھی اس وقت پانچ ہزار روپیہ ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ مریض کو ادوایات اور مناسب دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے اور حکومتوں کی عدم توجہ کی وجہ سے ہر سال چھ ہزار بچے پیدا کرکے ان کو موت کے منہ میں دکھیل دیتے ہیں اور ان کو مرنے کے لیئے سسکتا چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں میں شعور پیدا کیا جائے اور حکومتی سطح پر فی الفور چاروں صوبوں، فاٹا، آزاد کشمیر اور گلگت بلستان میں قانون سازی کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے کئی ممالک کے اندر قانون سازی کے زریعے سے اس کو کنٹرول کیا گیا ہے اور اس میں اسلامی ممالک بھی بڑی تعداد میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت حکومتی سطح پر قانون سازی کے لیئے زیادہ کوشیش دیکھنے میں نہیں آرہی ہے حلانکہ تھیلسیمیا پولیو سے بھی بڑا خطرہ ہے اور اس پر قابو پانے کے لیئے جنگی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

 

تھیلسیما سے متاثرہ بچوں اور مریضوں کے لیئے کام کرنے والے طارق خان تنولی نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ اگر کوئی بچہ انتہائی تھیلسیما یعنی تھیلسیمامیجر کا شکار ہوجائے تو اس کا مقدر موت ہی ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اس کو مناسب علاج معالجہ اور دیکھ بھال ملے تو وہ زیادہ لمبی عمر بھی پاتے ہیں اور کئی ایسے مریض بھی ہیں جنھوں نے لمبی عمریں پائیں اور بھرپور زندگی گزاری ہے مگر پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ عمومی طور پر اس مرض کا شکار ہونے والوں میں متوسط، غریب خاندانوں کے مریض ہوتے ہیں جن کے لیئے خون کا انتظام کرنا بھی ناممکن ہوتا ہے دیگر علاج معالجہ تو ان کے بس سے باہر ہوتا ہے اور حکومتی سطح پر اس کے مناسب انتظامات نہیں ہیں جس وجہ سے پورے کے پورے خاندان متاثر ہوجاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انتہائی تھیلسیما کا شکار بچے معیشت پر بھی بوجھ بنتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خود اندازہ کرلیں کہ محتاط ترین اندازے کے مطابق ایسے مریضوں کو دس لاکھ لیٹر خون کی ضرورت ہوتی ہے اور اب جبکہ رمضان آرہا ہے تو اکثر معمول کے مطابق خون عطیہ کرنے والے بھی خون عطیہ نہیں کررہے ہیں ایسی صورتحال میں وہ بچے کدھر جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس کا بہترین حل قانون سازی ہے جس پر جتنی جلدی توجہ دی جائے اتنا ہی بہتر ہوگا۔

واضح رہے کہ سندھ، پنجاب اور خیبر پختوں کی حکومت نے تھیلسیما کے حوالے سے قانون سازی کرنے کا اعلان کیا تھا مگر اس حوالے سے ماسوائے حکومت پنجاب کے کوئی بھی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔

پاکستان سٹوریز نے خیبر پختوں اور سندھ کے صوبائی وزراء صحت سے رابطہ کرکے موقف حاصل کرنا چاہا مگر انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا جبکہ پنجاب وزارت صحت کے زرائع نے کہا ہے کہ اس میں کچھ تاخیر ہوئی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اس قانون پر علماء، مذہبی رہنماوں اور معاشرے کے دیگر طبقوں کو اعتماد میں لیا جارہا ہے جس کے لیئے طویل مشاورتیں ہورہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اب سب سے مشاورت کے بعد اس کا مسودہ مکمل کیا جارہا ہے اور امید کررہے ہیں کہ جلد صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں اس کو پیش کردیا جائے گا۔

چاروں صوبوں اور ملک بھر میں اس حوالے سے تجویز ہے کہ دو تھیلسیما مانیر کی شادی پرپابندی ہوگی اور اس کے لیئے نکاح نامے میں فارم رکھا جائے گا اور نکاح سے قبل دونوں کو تھیلسیما کے حوالے سے تصدیق شدہ لیبارٹری کا ٹیسٹ پیش کرنا ہوگا جس کے لیئے حکومت ہر ضلع اور تحصیل کی سطح پر سنٹر قائم کرئے گی اور کوئی بھی نکاح خوان تھیلسیما ماننیئر کا شکار کا نکاح نہیں پڑھا سکے گا۔

متعلقہ خبریں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -

مقبول ترین