پاکستان سٹوریز
گجرات کے علاقے سرائے عالمگیر میں 4 سالہ معصوم بچی زہرہ کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم پولیس حراست میں پرسرار انداز میں ہلاک ہوگیا ہے۔
ملزم کو پولیس نے گزشتہ روز گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا، کہا گیا تھا کہ ملزم کی شناخت بھی ہوچکی ہے تاہم پھر بتایا گیا ہے کہ ملزم کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا ہے۔
مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے ڈیزائن فی سبیل اللہ بنانے والے انجینئر
گزشتہ روز پولیس حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ مرکزی ملزم کی شناخت کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں جو پہلے ہی ان کی حراست میں تھا تاہم چند گھنٹوں کے اندر مرکزی ملزم پراسرار حالات میں فرار ہونے کے بعد ہلاک ہو گیا۔
واضح رہے چند روز قبل سرائے عالمگیر کے علاقے میں 4 سالہ بچی کے قتل اور زیادتی کے ملزم کو پولیس نے کئی روز کی تفتیش اور ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے گرفتار کیا تھا۔ گرفتاری کے بعد ملزم کو عدالت میں پیش کرنا تھا مگر اس سے قبل ہی نامعلوم افراد کے ہاتھوں ہلاک ہوگیا۔
واضح رہے کہ زہرہ اپنے گھر سے خالہ کے گھر جانے کے لیے نکلی تھی۔
اس کہانی میں بہت سے موڑ آئے ہیں۔ اس سے پہلے ہم جانیں کہ ملزم کے ساتھ کیا ہوا؟ پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ واقعہ ہے کیا؟۔
پاکستان سٹوریز کے سوشل میڈیا پیجزکو فالو کریں تاکہ آپ تک ہماری تمام تحقیقاتی رپورٹیں اور فیچر پہنچتے رہیں۔
پاکستان اسٹوریز فیس بک پاکستان اسٹوریز ایکس پاکستان اسٹوریز لنکڈان پاکستان اسٹوریز یوٹیوب پاکستان اسٹوریز انسٹاگرام
قتل اور زیادتی کا واقعہ کب پیش آیا؟
سرائے عالمگیر پولیس کے مطابق یہ واقعہ 5 جنوری کو پیش آیا تھا۔ ملزم نے کم عمر زہرہ کو قتل اور زیادتی کے بعد لاش کو بوری میں بند کر کے ایک غیر آباد علاقے میں پھینک دیا تھا۔
یہ کیس پولیس کے لیے چیلنج بن گیا تھا۔ پولیس کیس کی تفتیش کے لیے سرگرم ہوئی جس کے لیے پولیس نے مختلف جگہوں سے ڈی این اے کے نمونے حاصل کیے جن میں سے 24 مقامات پر انسانی ڈی این اے کے نشانات پائے گئے جس پر وہ ویران مقام جہاں سے بوری میں لاش ملی تھی اس سے ملحقہ گھر کے پانچ مشکوک افراد کو شامل تفتیش کیا گیا تھا۔
پولیس نے تمام نمونے فرانزک کے لیے لاہور بھجوائے اور ایک ملزم جس کا نام ندیم بتایا جاتا ہے اس کا ڈی این اے مقتولہ بچی کے ساتھ میچ کر گیا تھا۔
پولیس کے مطابق اس نے صرف ڈی این اے رپورٹ پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کیا گیا اور کئی مقامات پر سی ٹی وی فوٹیج کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ایک سی سی ٹی وی فوٹیج وقوعہ والے روز دوپہر کے وقت زہرہ کیمرے کے سامنے سے اوجھل ہوتی ہے اور پھر چند سیکنڈ بعد بچی کی چیخ سنائی دیتی ہے۔
جس میں زہرہ کہہ رہی ہوتی ہے کہ چاچو، چاچو۔۔۔ چاچو نہیں جانا۔۔۔ نہیں جاؤں گی۔
اس کے بعد سی سی ٹی وی فوٹیج میں کچھ نہیں تھا تاہم پولیس نے جتنی فوٹیج تھی اس کا تجزیہ کیا تو پتا چلا کہ اتنی دیر میں اس جگہ پر پہنچا جاسکتا ہے جہاں پر ملزم کا گھر تھا۔ مگراس جگہ پر آمنے سامنے اور بھی گھر تھے۔
پولیس نے اس مقام پر سی سی ٹی وی فوٹیج کا موازنہ کرنے کے لیے دونوں گھروں کی کنڈیوں کے کھٹکے کی آوزوں کو ریکارڈ کرکے موازانہ کیا اور ملزم کے دروازے کی کنڈی کی آواز کو سی ٹی وی فوٹیج کے زیادہ قریب پایا تھا۔
ملزم کی گرفتاری کی تیاری
واضح رہے کہ ابھی تک ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ نہیں آئی تھی مگر پولیس کو ملزم کے حوالے سے ایک سراغ مل گیا تھا۔
جہاں سے لاش ملی تھی وہ جگہ بھی ملزم کے گھر کے ساتھ ملحق تھی اور جس بوری میں لاش ملی تھی وہ ملزم کے گھر میں دیکھی گئی تھی۔
اس دوران جب اس بوری کو فرانزک رپورٹ کے لیے بھجوایا گیا تو ملزم نے موقع پر موجود خواتین اہلکاروں کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔
’اس دوران خواتین اہلکار بھی آبدیدہ ہو گئیں اور یہ شخص بھی دھاڑیں مار مار کر رونے لگا، جس کے بعد اس کا پولی گرافک ٹیسٹ دوبارہ ہوا۔‘
ملزم کیسے ہلاک ہوا؟
ملزم کو گرفتار کرلیا گیا تھا اور پھر ڈی این اے رپورٹ میں بھی ثابت ہوا کہ گرفتار ملزم ہی اصل مجرم ہے۔
پولیس کے مطابق پولیس ملزم کو تفتیش کے لیے جائے وقوعہ پر لے کر جا رہی تھی کہ اس دوران پولیس ملزم کی حراست سے فرار ہوگیا اور پھر رات گئے اس کی لاش ایک ویران مقام سے ملی۔
پولیس کے مطابق ملزم رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوا۔ اس موقع پر اس نے گاڑی سے چھلانگ لگائی اور ڈیوٹی پر موجود کاسنٹیبل کو دھکا دیا۔ پولیس نے ملزم کا پیچھا کیا۔ اس موقع پر فائر کے علاوہ گالم گلوچ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
پولیس کے مطابق وہ تفتیش کررہے ہیں کہ ملزم کو کس نے قتل کیا؟