جمعہ, اپریل 4, 2025
ہوماہم خبریںمسجد الحرام اور مسجد نبوی کے ڈیزائن فی سبیل اللہ بنانے والے...

مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے ڈیزائن فی سبیل اللہ بنانے والے انجینئر

نورین محمد سلیم

اگر آپ نے سخت موسم کے دوران مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں نماز پڑھنے، طواف کرنے کی سعادت حاصل کی ہے تو آپ کو ان مساجد میں چلتے ہوئے، نماز پڑھتے ہوئے، قران پاک کی تلاوت کرتے ہوئے ٹھنڈک اور راحت ضرور محسوس ہوئی ہوگی جو انتہائی سخت موسم میں ٹھنڈک کا احساس دلاتی ہے۔

اگر اب تک آپ کو موقع نہیں ملا تو امید ہے اللہ یہ وقت ضرور لائے گا، مگر آپ کو عمرہ، حج کی سعادت حاصل کرنے والوں نے ضرور بتایا ہوگا کہ مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں فرش ٹھنڈے ہیں۔ یہ ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جس سے زاہرین کو سخت موسم میں ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے۔

یہ کارنامہ مصر کے انجینئر کمال محمد اسماعیل نے انجام دیا ہے۔

کراچی کا انڈر ورلڈ ڈان شعیب خان جو ممبئی کے داؤد ابراہیم سے متاثر تھا

مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی توسیع

مسجد نبویﷺ جہاں پر ایک نماز کا ثواب کسی اور مسجد میں ادا کرنے سے کئی ہزار گنا زیادہ ہے۔ اس بارے میں کوئی دو رائے نہیں کہ شہر مدینہ اور مسجد نبوی امت مسلمہ کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ مدینہ جو کبھی یثرب کہلاتا تھا ہر سال مسجد نبوی کی زیارت کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اسی طرح حج اور عمرہ کی سعادت حاصل کرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ سعودی فرمانروا جو خود کو خادم الحرمین الشریفین کہلانا زیادہ پسند کرتے ہیں نے جب مسجد الحرام اور مسجد نبویﷺ کی توسیع کا کا منصوبہ بنایا تو یہ قرعہ فال مصری انجیئر کمال محمد اسماعیل کے نام پر نکلا۔

کمال محمد اسماعیل ہیں 1908 میں پیدا ہوئے، انھوں نے ہائی سکول تک تعلیم مصر میں حاصل کی جس کے بعد انھوں نے رائل کالج آف انجینئرنگ سے گریجویشن کی اور یہ رائل کالج سے گریجویشن کرنے والے سب سے کم عمر طالب علم تھے۔ اس کے بعد کمال محمد اسماعیل نے اسلامی فن تعمیر میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

کمال محمد اسماعیل حرمین شریفین کے ڈیزائن اور توسیع منصوبے کا چارج سنبھالنے والے پہلے انجینئر تھے۔

کمال محمد اسماعیل کو شاہ فہد نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی مساجد کے توسیعی منصوبے کی نگرانی اور ڈیزائن کرنے کو کہا تھا۔ انھوں نے ڈیزائن بھی بنایا اور توسیع بھی کی تھی۔ یہ ایسا کارنامہ تھا جس سے اب تک عازمین مستفید ہوتے ہیں۔

انھوں نے اس کام کے لیے الیکٹرک گنبد، سنگ مرمر کے ٹھنڈے فرش اور فرش کو ڈھانپنے والی بڑی بڑی چھتریوں کو متعارف کروایا۔ اس کے لیے آپ نے تجربے کا استعمال کیا۔ نقشہ نویسی کا شاندار اور منفرد ڈیزائن بنایا۔ یہ کارنامہ کمال محمد اسماعیل ہی کر سکتے تھے کیونکہ انھوں نے مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ پر کام دل سے کیا تھا نہ پیسوں کے لیے۔

پنجاب میں کریک ڈاؤن،نوویڈیٹ اور ایماکسل کیپسول سمیت 11 جعلی ادویات پکڑی گئیں

اللہ کو کیا جواب دوں گا۔

مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی توسیع کا کام مشہور زمانہ کمپنی بن لادن نیا کیا تھا۔ محمد اسماعیل کو انتہائی مشکل اور کھٹن کام کرنے کے لیے معاوضے کی پیش کش کی گئی مگر انھوں نے انجینئرنگ ڈیزائن اور تعمیراتی نگرانی کے لیے کوئی رقم لینے سے انکار کر دیا تھا۔

جب اصرار کیا گیا کہ انھوں نے جواب دیا کہ میں مقدس ترین مقامات پر اپنی خدمات کا معاوضہ لوں گا تو روز قیامت اللہ کو کیا جواب دوں گا؟َ

کمال محمد اسماعیل نے 44 سال کی عمر تک شادی نہیں کی تھی۔ جب شادی ہوئی تو ان کی اہلیہ نے ایک بیٹے کو جنم دیا اور اس کے بعد اللہ کو پیاری ہوگئی تھیں۔ 80 سال کی عمر میں انھوں نے ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کے بعد ساری زندگی اسی کام کیلئے وقف کر دی ، انھوں نے 100 سال سے سے زائد عمر پائی تھی۔

کئی راوی بتاتے ہیں کہ وہ اپنا زیادہ تر وقت عبادت میں صرف کرتے تھے اور اپنی وفات کے سال 2008 سے پہلے تک مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ کی خدمت میں مصروف رہے۔

چین میں نیا وائرس کا ہھیلاؤ، ہیومن میٹا پینو وائرس کیا ہے؟

بتایا جاتا ہے کہ جب کمال محمد اسماعیل نے کام شروع کیا تو اس وقت شاہ فہد نے کہا کہ وہ سفید رنگ کا سنگ مرمر استعمال کریں تو انھوں نے خصوصی طور پر سفید رنگ کا سنگ مرمر خریدنے کے لیے یونان کا سفر کیا تھا۔ جہاں سے ایسا قیمتی سنگ مرمر خرید کر لائے جو فرش کو ٹھنڈا رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

یہ سنگ مرمر غیر معمولی چمک اور خوبصورت سفید رنگ کے لیے مشہور ہے۔ اس کا استعمال عموما گھروں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیئے کیا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -

مقبول ترین