جمعہ, اپریل 4, 2025
ہومٹاپ اسٹوریخراٹے ازدواجی زندگی، نیند اور صحت کیلئے خطرناک

خراٹے ازدواجی زندگی، نیند اور صحت کیلئے خطرناک

محمد نوید خان

خراٹے لینے والے کئی لوگوں نے ڈاکٹروں کو بتایا ہے کہ وہ نیند کی کمی، صحت کے مسائل کے علاوہ ان کی ازواجی زندگی اس طرح متاثر ہو رہی ہے کہ وہ اپنے ساتھی کی طرف رغبت محسوس نہیں کرتے ہیں۔

ایسے لوگ جو نیند کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں وہ اپنے کام، کاروبار، ملازمت پر توجہ نہیں دے پاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی طبعیت میں چڑچڑا پن آجاتا ہے۔ اس رویے کا شکار ان کے اہل خانہ بھی بنتے ہیں۔

عموماً شادی شدہ زندگی میں خراٹے لینے کی عادت ساتھی نظر انداز کر دیتے ہیں مگر یہ آپ کے ساتھی کی صحت پر بھی منفی اثرات ڈالتے ہیں۔

پاکستان سٹوریز کے سوشل میڈیا پیجز کو فالو کریں تاکہ مستند معلومات آپ تک پہچنتی رہیں۔

پاکستان اسٹوریز فیس بک  پاکستان اسٹوریز ایکس  پاکستان اسٹوریز لنکڈان    پاکستان اسٹوریز یوٹیوب  پاکستان اسٹوریز انسٹاگرام

نیند کی خرابی

ماہرین کا کہنا ہے کہ اونچی آواز میں خراٹے لینا اکثر نیند کی خرابی کا باعث بنتا ہے، اس دوران نیند میں سانس لینے میں رکاوٹ ہوتی ہے جس کی وجہ سے گلے کی دیواریں ڈھیلی اور تنگ ہو جاتی ہیں، اور آکسیجن کی کمی واقع ہوتی ہے۔

برطانیہ کی جیمز کک یونیورسٹی ہسپتال کے ایک ماہر تنفس ڈاکٹر راما مورتھی ستھیامورتھی نے اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ یہ مختلف علامات ہو سکتی ہیں جو بڑھتی جاتی ہیں اور یہ صورتحال جسمانی اور ذہنی بیماریوں کا باعث بنتی ہے۔

اس کی بنیادی علامات میں

اونچی آواز میں خراٹے لینا
سانس لینے میں رکاوٹ
ہانپنا، خراٹے لینا، یا دم گھٹنے کی آوازیں نکالنا
نیند سے بار بار اٹھنا

دن کے اوقات میں مریضوں کے ساتھ یہ بھی ہو سکتا ہے

نیند سے جاگنے پر سر درد
بہت تھکاوٹ محسوس کرنا
توجہ مرکوز کرنے میں مشکل محسوس کرنا
یادداشت کمزور ہونا
افسردہ، چڑچڑاپن محسوس کرنا یا موڈ میں تبدیلیاں
ناقص ہم آہنگی کا تجربہ کرنا
جنسی خواہش میں کمی یا سیکس ڈرائیو کھو دینا
اس کے علاوہ صحت کے دیگر مسائل ہونا

نیوزی لینڈ 2025 میں کن شعبوں کے لیے ویزہ دے رہا ہے؟

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال بلڈ پریشر کو بڑھا سکتی ہے اس کی وجہ اس دوران خون میں آکسیجن کی سطح میں اچانک کمی ہونا ہے۔ اس صورتحال سے دل بند ہونے کا خطرہ 140فیصد، فالج کا خطرہ 60 فیصد ہو سکتا ہے اور یہ دل کی بیماریوں کے خطرے کو 30 فیصد تک بڑھا سکتا ہے۔

مردوں کی تعداد زیادہ ہے

خراٹے لینے والوں میں مردوں کی تعداد زیادہ ہے۔ پاکستان میں تو اعداد وشمار تو دستیاب نہیں مگر امریکہ اور برطانیہ میں اس کے باعث جوڑوں میں طلاق اور علیحدگی ہوجاتی ہے

دنیا میں مختلف ممالک اور خطوں میں اس کی وجوہات مختلف ہوسکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق خراٹے لینے کی وجہ گردن اور سر کے نرم ٹشوز میں لرزش بھی ہوسکتی ہے۔ یہ نرم ٹشو ناک کے راستے، ٹانسلز اور منہ کے اوپری حصے میں پائے جاتے ہیں۔ سوتے وقت ہوا کے گزرنے کا راستہ آرام دہ حالت میں ہوتا ہے۔ ہوا کو اندر اور باہر کرنے کے لیے زور لگانا پڑتا ہے جس وجہ سے لرزش پیدا ہوتی ہے۔

سال 2025 میں پیسے کمانے کے آسان طریقے

اب خراٹوں کو روکنے کے لیے ہوا کی نالی کو کھلا رکھنا لازمی ہے۔ ایسا کرنے کے لیے بہت سے طریقے ہوسکتے ہیں جن کو معالجین مریضوں کو اپنانے کا مشورہ دہتے ہیں۔

کون سی تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں؟

شراب سے پرہیز

شراب نوشی کرنے والے ان مسائل کا زیادہ شکار ہوسکتے ہیں۔ شراب نوشی کی وجہ سے پٹھے زیادہ آرام دہ ہوجاتے ہیں اور ہوا کی نالیاں تنگ ہو جاتی ہیں۔

گریٹر اسرائیل کا متنازع نقشہ جاری، کون کون سے عرب ممالک شامل؟

کروٹ لے کر لیٹنا

جب سیدھا لیٹا جائے تو زبان، ٹھوڑی اور ٹھوڑی کے نیچے موجود فیٹی ٹشوز ہوا میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔ اگر اس حالت میں خراٹے لیتے ہیں تو ایک طرف ہو کر سوجائیں۔

ناک میں پٹیوں کا استعمال

اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے ایسے پیٹیاں استعمال کی جاسکتی ہیں جو خراٹوں کو روکنے میں مددگار ہوتی ہیں۔ یہ نتھنوں کو کھلا رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔

اپنی ناک صاف رکھیں

نزلہ زکام کے باعث ناک بند ہونے سے بھی خراٹوں کا امکان ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں ناک کو اچھی طرح صاف کرلیں۔ دوائی کے استعمال کے لیے ڈاکٹر سے مشور کریں۔

وزن کم کریں

زیادہ وزن بھی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ یہ ہوا کے راستوں کو تنگ کرتا ہے۔ وزن میں کمی سے بھی خراٹوں میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -

مقبول ترین