واپڈا کے زیرِ انتظام خان پور ڈیم میں بڑا اقدام کرتے ہوئے غیر قانونی کشتی رانی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
ایگزیکٹو انجینئر خان پور ڈیم پروجیکٹ نے تمام کشتی اور جیٹی مالکان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر جھیل اور واپڈا کی زمین خالی کر دیں۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ جھیل پر کئی افراد اور کلبز غیر قانونی طور پر کشتی رانی کی سرگرمیاں کر رہے ہیں جو کہ ماحولیاتی مجسٹریٹ کے 13 مئی 2010 کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔
پاکستان سٹوریز کے سوشل میڈیا پیجز کو فالو کریں تاکہ مستند معلومات آپ تک پہچنتی رہیں۔پاکستان اسٹوریز فیس بک پاکستان اسٹوریز ایکس پاکستان اسٹوریز لنکڈان پاکستان اسٹوریز یوٹیوب پاکستان اسٹوریز انسٹاگرام
نوٹس کے مطابق مجسٹریٹ کے فیصلے کے تحت صرف مقامی افراد کے فائدے کے لیے ماحول دوست اور محدود کشتی رانی کی اجازت دی گئی تھی تاہم حالیہ معائنے میں انکشاف ہوا کہ یہ سرگرمیاں کمرشل مقاصد کے لیے کی جا رہی ہیں جس سے نہ صرف ماحولیاتی آلودگی بڑھ رہی ہے بلکہ جھیل کے پانی کا معیار بھی متاثر ہو رہا ہے۔
خان پور ڈیم کو ایک قومی اہمیت کا حامل منصوبہ قرار دیا گیا ہے جو اسلام آباد اور راولپنڈی کے رہائشیوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا ذریعہ ہے۔
نوٹس کے مطابق غیر قانونی کشتی رانی اور جھیل میں انجن والی کشتیوں کے ذریعے آلودگی کے باعث عوامی صحت اور ماحول کو خطرہ لاحق ہے۔
کشتی اور جیٹی مالکان کو 3 دن کی مہلت دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی سرگرمیاں بند کرکے غیر قانونی ڈھانچے ہٹا دیں بصورت دیگر لیگل ایکشن لیا جائے گا اور اخراجات ان افراد سے وصول کیے جائیں گے۔
نوٹس کی کاپی متعلقہ اداروں، جن میں ڈی جی واپڈا، ضلعی انتظامیہ، اور مقامی پولیس شامل ہیں، کو بھی بھیجی گئی ہے تاکہ عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے