ہشام چوہان
اگر آپ سیاحت، واک اور ہائکنگ کے شوقین ہیں تو کبھی نہ کبھی یہ اتفاق ضرور ہوا ہوگا کہ کوئی نوجوان مرد ، خاتون یا بزرگ شہری اپنے کندھوں پر تھیلا، ہاتھوں میں دستانے پہنے ادھر ادھر دیکھ رہا ہو۔ جہاں پر کوئی شاپنگ بیگ، گند، کچرا، خالی بوتل یا چھلکا نظر آئے اٹھا کر تھیلے میں ڈالتے ہیں اور پھر کسی کوڑے دان میں ڈال دیتے ہیں۔
ایسے لوگ بہت زیادہ نہیں ہوتے مگر ہر علاقے، شہر، پارک، سیاحتی مقام پر چند ضرور ہوتے ہیں جو اپنا قیمتی وقت نکالتے ہیں۔ اکثر اوقات راہ چلتے لوگ ان پر فقرہ بھی کس دیتے ہیں یہ دیکھ کر مسکراتے اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔
یہ کون لوگ ہیں؟ یہ ماحولیاتی کارکن ہیں۔ یہ وہ رضا کار ہوتے ہیں جو دوسروں کا گند اٹھا کر ماحولیات کو بہتر رکھنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔
آلودگی پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ, ہری پور میں سٹون کرشنگ بند، 900 پلانٹس کے جائزے کا حکم
اگر آپ اکثر اسلام آباد کی مارگلہ ہلز پر واک، ہائکنگ یا تفریح کے لیے جانے والوں میں شامل ہیں تو وہاں پر بھی آپ نے بہت زیادہ نہیں تو چند ایسے ماحولیاتی کارکن دیکھے ہوں گے۔ انہی میں سے ایک منظور خان شیروانی بھی ہیں۔
‘اویئرنیس مین’
منظور خان شیروانی پیشے کے لحاظ سے پراپرٹی کے کاروبار سے منسلک ہیں اور کئی سالوں سے نہ صرف مارگلہ اور قریبی مقامات سے کچرا اٹھاتے بلکہ لوگوں میں شعور پیدا کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ اس وجہ سے انہیں ‘اویئرنیس مین’ کا خطاب دیا گیا ہے۔
ناران: مہانڈری پل بحال کرنے کی کوشش ناکام, تعمیراتی سامان بھی بہہ گیا
پاکستان سٹوریز کے ساتھ بات کرتے ہوئے منظور خان شیروانی کا کہنا تھا کہ مجھے بچپن سے ہی دلفریب نظاروں، پہاڑوں، درختوں، پانی اور ندی، نالوں سے پیار تھا۔ جب بھی ان کے قریب جاتا تو مجھے بہت سکون ملتا اور مزہ آتا تھا۔ میں اکثر سیر و تفریح، واک کے لیے مارگلہ ہل اور ان علاقوں کا رخ کرتا مگر جب میں یہاں پر گند، کچرا، پلاسٹک، بوتلیں دیکھتا تو دل دکھتا تھا اور پھر ایک روز فیصلہ کیا کہ چلو مارگلہ ہل کے بغیر رہ تو نہیں سکتا تو اپنے ذمے کا کچھ کام کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بس اس کے بعد میں نے مارگلہ ہلز میں ہر قسم کا کچرا اٹھا کر ٹھکانے لگانا شروع کر دیا، شروع میں تو کچھ شرماتا، جھجک ہوتی تھی۔ اس دوران کچھ لوگ مجھے طنزیہ نظروں سے دیکھتے، کچھ فقرے بھی کس دیتے مگر میں چپ رہتا تھا۔
منظور خان شیروانی کا کہنا تھا کہ کچھ عرصے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ شرم کس بات کی، جب لوگ اپنا گند پھینکتے ہوئے نہیں شرما رہے۔ ان کو یہ شرم نہیں آتی کہ وہ عوامی مقام جو سب کی ملکیت ہے، جو آنے والی نسلوں کی امانت کی تباہی کا سبب بن رہے ہیں تو میں تو یہ گند اٹھا رہا ہوں مجھے کیوں شرم آئے، بس اس کے بعد میرا کام پہلے سے بہتر ہوگیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ میں نے پھر لوگوں میں شعور بیدار کرنا شروع کر دیا۔ ایسے ہوتا کہ مارگلہ ہل میں کچھ خاندان آتے، پڑھے لکھے لوگ آتے تو ان کے ساتھ بات ہوتی تو میں ان کو بتایا کہ میں یہ کیوں کررہا ہوں۔
گلگت بلتستان سیاحت کریں مگر جانوروں اور درختوں کو نقصاں نہ پہنچائیں
منظور خان شیروانی کا کہنا تھا کہ میں ان کو بتاتا کہ میں قدرت کے اس حسین نظارے کو محفوظ بنانے کے لیے کر رہا ہوں۔ ان کو سمجھاتا کہ یہ پلاسٹک، یہ کچرا، یہ گند میرے ماحول کو تباہ کر رہا ہے اور اس سے ہماری آنے والی نسلیں تباہ ہوں گی۔ یمارے پاس یہ ماحول اور قدرت کا نظارے آنے والی نسلوں کے لیے امانت ہیں، ہمیں اسے ان کے لیے محفوظ رکھنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میری بات بہت سے لوگوں کو سمجھ آتی ہے اور وہ اپنا کچرا واپس لے جاتے ہیں، کئی ایک نے اب میری مہم میں بھی حصہ ڈالنا شروع کر دیا ہے۔