جمعہ, اپریل 4, 2025
ہومپاکستانسائفر گفتگو میں امریکی اہلکار کی باتو ں کو سیاق و سباق...

سائفر گفتگو میں امریکی اہلکار کی باتو ں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا

 ہلچل پیدا کرنے والی امریکی سائفر ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ انٹرسیپٹ نامی امریکی نیوز ویبسائیٹ نے ایک رپورٹ میں اس نے دعوی کیا ہے کہ یہ سفارتی مراسلہ کا متن ہے۔ جس کو پاکستان کے سابق سفارت کار اسد مجید نے اسد مجید نے امریکی معاون وزیر خارجہ برائے وسط اور جنوبی ایشیا ڈونلڈ لو سے ہونے والی گفتگو کے بعد تحریر کیا تھا۔

تاہم امریکی محکمہ خارجہ نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ پاکستانی سفیر سے امریکی وزارتِ خارجہ کے افسر کی گفتگو میں امریکی اہلکار کی باتوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

واشنگٹن میں محکمہ خارجہ کی پریس بریفنگ کے دوران انٹرسیپٹ کی رپورٹ کے حوالے سے امریکی ترجمان میتھیو ملر سے سوال پوچھا گیا تھا جس پر ان کا کہنا تھا کہ میں اس دستاویز کے مصدقہ ہونے پر بات نہیں کر سکتا۔ امریکہ نے پاکستان کے ساتھ روس کی یوکرین پر چڑھائی کے دن ماسکو کا دورہ کرنے پر اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا لیکن امریکہ نے پاکستانکی قیادت کے حوالے سے پاکستان کے داخلی فیصلوں میں دخل اندازیکرنے کے الزامات غلط ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس مراسلے میں موجود باتوں کو اگر سیاق و سباق کے ساتھ دیکھا جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکومت پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے پالیسی کے حوالے سے خدشے کا اظہار کر رہی ہے نہ کہ وہ اس بارے میں کوئی بات کی جارہی کہ پاکستان کا لیڈر کسے ہونا چاہیے۔ تبصرے کو سیاق و سباق سے ہٹ کر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ تبصرہ نہیں کرسکتے کہ یہ کوشش داسنتہ تھی یا نہیں۔ میں کسی کی نیت پر کوئی با نہیں کرسکتا۔

انٹرسیپٹ کی خبر پر مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنمااور سابق وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ کچھ بھی نیا نہیں ہے، ان معلومات اور ان کی بنیاد بننے والی دستاویز کی صداقت کے بارے میں تحقیقات کی ضرورت ہے۔ ممکنہ طور پر، یہ ایک بہت ہی مذموم اور فتنہ انگیز عمل ہے۔‘

ٹوئٹر پر اپنے سلسلہ وار پیغامات میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ عمران خان نیازی کے پاس سائفر کی ایک کاپی موجود تھی، جسے انھوں نے واپس نہیں کیا اور آن ریکارڈ قبول کیا ہے کہ وہ ان سے گم گئی ہے‘۔

سابق وزیرِ داخلہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اگر قصوروار ثابت ہوں تو عمران خان پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے سائفر سے متعلق اپنا بیان مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کروایا ہے، جس میں انھوں نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم نے سیاسی مقاصد کے لیے سائفر کا ڈرامہ رچایا تھا۔

واضح رہے کہ تین سال کی قید کاٹنے والے عمران خان نے اپنی حکومت کے خاتمے سے چند دن قبل اسلام آباد میں خط لہراتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ بیرونِ ملک سے ان کی حکومت گرانے کی سازش ہو رہی ہے اور انھیں تحریری دھمکی دی گئی ہے۔ ان کے خلاف آنے والی تحریکِ عدم اعتماد کا تعلق بھی اسی دھمکی آمیز خطسے ہے۔

گزشتپ سال ہی ایک مبینہ آڈیو سامنے آئی جس میں عمران خان اور ان کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کو امریکی دھمکی سے متعلق مراسلے کے معاملے پر گفتگو کرتے سنا جا سکتا تھا۔

اس آڈیو کا آغاز عمران خان کی آواز سے ہو رہا تھا اور وہ کہہ رہے تھے کہ اچھا اب ہم نے صرف کھیلنا ہے نام نہیں لینا امریکہ کا۔۔۔ بس صرف کھیلنا ہے اس کے اُوپر کہ یہ تاریخ پہلے سے تھی۔’

اس آڈیو لیک کے بارے میں عمران خان نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں کہا تھا کہ یہ انھوں نے ہی لیک کی ہے، شہباز شریف نے ہی لیک کی ہے۔ بہت اچھا ہوا کہ لیک کی ہے۔ پورا سائفر ہی لیک ہو جائے، سب کے سامنے آ جائے تاکہ سب کو پتا چلے کہ کتنی بڑی بیرونی سازش ہوئی ہے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ وہ اس بیان کا دفاع کیسے کریں گے تو انھوں نے کہا کہ ‘اس کے اوپر تو میں کھیلا ہی نہیں ابھی، اب یہ ایکسپوز کریں گے تو کھیلیں گے اس کے اوپر۔

کچھ عرصہ بعد عمران خان نے ایک اور موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ کا اصل کردار امریکہ نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -

مقبول ترین