حوثیوں کے خلاف یمن میں دو روز سے جاری امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں 53 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ حوثی رہنما انصار اللہ عبدالملک کی شہادت کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
امریکا کی جانب سے یہ بمباری ایسے وقت میں کی گئی ہے جب حوثیوں نے امریکی بحری بیڑے کو نشانہ بنایا ہے۔ ٹرمپ نے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کے احکامات جاری کیے تھے۔
امریکا نے اعلان کیا ہے کہ یمن کے خلاف کرروائیاں بغیر کسی وقفے کے جاری رہیں گی۔
یمن کے حوثی اہل غزہ کی حمایت میں بحیرہ احمر میں طویل عرصے سے اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
یمنی حوثیوں کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دوسری بار امریکی بحری بیڑے یو ایس ایس ہیری ٹرومین پر ڈرونز اور بیلسٹک اور کروز میزائلوں سے حملہ کیا جو کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔
انہون نے کہا کہ ہمارا حملہ اس منصوبے کو ناکام بنانے میں کامیاب رہا جو دشمن ہمارے ملک کے خلاف شروع کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔
حوثیوں کا کہنا ہے ہے کہ غزہ پر اسرائیلی حملے بند کیے جانے تک وہ بھی امریکی اور اسرائیلی جہازوں کو نشانہ بناتے رہیں گے۔
دو روز سے جاری حملوں کے بعد امریکی قومی سلامتی کے مشیر مائیکل والٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن میں امریکی فضائی حملوں میں متعدد حوثی رہنما مارے گئے جبکہ حوثیوں کے 11 ڈرونز کو بھی گرا دیا گیا۔
امریکی امداد کی بحالی کے وعدے پر یوکرین روس کے ساتھ 30 روزہ جنگ بندی پر رضامند
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حملے میں جاں بحق افراد میں حوثی رہنما انصار اللہ عبدالملک بھی شامل ہیں۔
امریکی عہدیدار کا دعویٰ ہے کہ اتوار کو یمنی حوثیوں کے 11 ڈرون مار گرائے گئے اور حوثیوں کی جانب سے فائرکیا گیا ایک میزائل یمن کے قریب سمندر میں گرا، یہ میزائل امریکا کے لیے بڑاخطرہ ثابت نہیں ہوا۔
ترکیہ مخالف مسلح تنظیم ‘پی کے کے’ نے 40 سال بعد ہتھیار ڈالنے کا اعلان کر دیا