جمعہ, اپریل 4, 2025
ہوماہم خبریںترکیہ مخالف مسلح تنظیم 'پی کے کے' نے 40 سال بعد ہتھیار...

ترکیہ مخالف مسلح تنظیم ‘پی کے کے’ نے 40 سال بعد ہتھیار ڈالنے کا اعلان کر دیا

آزاد کرد وطن کیلئے ترکی کے خلاف 40 سال سے مسلح جدو جہد کرنے والی عسکریپ پسند تنظیم نے اپنے بانی رہنما عبداللہ اوجلان کی اپیل پر ہتھیاڑ ڈالنے کا اعلان کر دیا۔

واضح رہے کہ ترکی میں 1984 سے جاری مسلح بغاوت کے نتیجے میں اب تک 40 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، کردوں کے لیڈر عبداللہ اوجلان 1999 سے جیل میں قید ہیں۔

ترکی فوج کرد اکثریتی علاقے میں کئی بار آپریشن کر چکی ہے جب کہ پی کے کے کے حملوں نے اب تک 40ہزار سے زائد افرد ہلاک ہوچکے ہیں

اوجلان نے 1978 میں پی کے کے کی بنیاد رکھی تھی جس کے بعد سے تنظیم کئی ہلاک خیز حملے کر چکی ہے، پی کے کے کے قیام کا مقصد ترکیہ، شام، عراق اور ایران کے کرد اکثریتی علاقوں پر مشتمل آزاد ریاست کا قیام تھا۔

25 برس سے جیل میں قید باغی رہنما عبداللہ اوجلان نے جمعرات کو پارٹی تحلیل کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔

جیل میں اوجلان کے ساتھ متعدد ملاقاتوں کے بعد کردوں کی حامی ڈی ای ایم پارٹی نے جمعرات کو پی کے کے سے ہتھیار ڈالنے اور تنظیم کی تحلیل کا اعلان کرنے کے لیے پی کے کے کی جانب سے اجلاس بلانے کی اپیل کی تھی۔

کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) نے اپنے بیان میں کہا کہ امن کے لیے رہنما کی اپیل پر عمل کرنے کے لیے ہم آج سے جنگ بندی کا اعلان کر رہے ہیں۔

پی کے کے کی جانب سے جاری بیان میں ترک حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ 1999 سے قید عبداللہ اوجلان کو نقل و حرکت کی اجازت دے تاکہ ہتھیار ڈالنے کا عمل آگے بڑھایا جا سکے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم جنگ بندی کا اعلان کر رہے ہیں جس کا اطلاق ہفتے سے ہو گا، ہمارے جنگجو اب سے کوئی مسلح کارروائی نہیں کریں گے۔

ترکی، یورپ اور امریکی کی جانب سے دہشتگرد تنظیم قرار دی گئی کرد عسکریت پسندوں کی تنظیمی کمیٹی کا کہنا تھا کہ ہم اپنے لیڈر کے مطالبے کے مندرجات سے اتفاق کرتے ہیں اور اس پر عمل کریں گے۔

متعلقہ خبریں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -

مقبول ترین