دفترخارجہ نے پاکستانی وفد کے مبینہ دورہ اسرائیل پر ردعمل میں کہا ہے کہ پاکستانیوں کے اسرائیل جانے سے متعلق کوئی معلومات نہیں ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کا کہنا تھا پاکستانیوں کے اسرائیل جانے سے متعلق خبروں کو چانچا جا رہا ہے، صورتحال واضح ہونے پر تبصرہ کیا جا سکے گا۔
شفقت علی خان کا کہنا ہے پاکستان اسرائیل کی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی اور فلسطینیوں کے خلاف ہونے والے مظالم کی شدید مذمت کرتے ہیں، عالمی برادری اسرائیل کا احتساب کرے۔
گزشتہ روز ذرائع ابلاغ میں رپورٹس میں پاکستانی وفد کے خفیہ دورہ اسرائیل کا انکشاف کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل 2022 میں بھی زیادہ تر پاکستانیون پر مشتمل ایک وفد نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا، دورے کی خبر سامنے آنے کے بعد پی ٹی وی نے اینکر پرسن احمد قریشی کو نوکری سے نکال دیا تھا۔
اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان صحافیوں، دستاویزی فلم سازوں اور محققین پر مشتمل وفد نے گزشتہ ہفتے اسرائیل کا خفیہ دورہ کیا، وفد کو تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس کا دورہ کرایا گیا۔
وفد کو گزشتہ برس حماس کے طوفان الاقصیٰ حملے کے مقام نووا فیسٹیول کا دورہ بھی کروایا گیا
اخبار کے مطابق وفد کے تحفظ ے لیے کئی احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں جن میں اس کے ارکان کے پاسپورٹس پر مہر نہ لگانے اور دورے کی خبریں وفد کی واپسی تک مؤخر کرنے کا فیصلہ شامل تھا تاکہ سنگین نتائج سے بچا جا سکے۔
اسرائيلی اخبار ہيوم کے مطابق دورے کا انتظام اسرائیلی این جی او شرکت نے کیا تھا۔
شرکت کے سربراہ ڈین فیفرمین نے اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم پاکستانی وفد کو اسرائیل میں خوش آمدید کہنے کے لیے پُرجوش ہیں، یہ اقدام ہمارے وسیع تر ایجنڈے میں معاون ثابت ہوگا، جس کا مقصد اسرائیل اور عرب دنیا کے درمیان امن فروغ دینا ہے۔‘
اسرائیلی اخبار نے دعویٰ کیا کہ ایک صحافی قیصر عباس نے تصویر شائع نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ ذاتی حیثیت میں اسرائیل کا دورہ کر رہے ہیں اور انہیں ایسا نہیں لگتا کہ اس سے پاکستان کے عوام کا غصہ بڑھے گا، مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل ممکن ہے لیکن یہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کی مشترکہ کوششوں سے ہی ہوسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق وفد کے ایک اور رکن شبیر خان نے بتایا کہ پاکستان اور اسرائیل کے درمیان مستقبل میں تعلقات کو معمول پر لایا جاسکتا ہے تاہم ’انتہا پسند اسلامی گروپوں‘ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔’
وفد کی رکن پاکستانی دستاویزی فلم ساز سبین آغا نے کہا کہ ’میں ہمیشہ اسرائیل آنا چاہتی تھی تاکہ ذہن میں موجود تمام سوالات کے جوابات تلاش کروں اور اس الجھن کو دور کروں جو میرا ملک اور مسلم دنیا مجھے یہودیوں کے بارے میں بتاتے رہی ہیں۔‘
دورہ کروانے والی تنظیم شراکت کے شریک بانی، اميت ديری نے کہا کہ ہم نے پاکستان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات پر مفید بات چیت کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، ہم نے اسرائیلی نقطہ نظر کو سمجھنے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا مشاہدہ کیا ہے، جس کی وجہ سے ہم نے پاکستان کے وفود کو کئی ممالک میں مدعو کیا، جن میں پولینڈ اور جرمنی شامل ہیں، تاکہ وہ ہولوکاسٹ کے بارے میں معلومات حاصل کریں اور سامی دشمنی کے بارے میں آگاہی بڑھائیں