جمعہ, اپریل 4, 2025
ہومٹاپ اسٹوریپاکستان میں 54 فیصد سگریٹ غیر قانونی طور پر فروخت ہونے کا...

پاکستان میں 54 فیصد سگریٹ غیر قانونی طور پر فروخت ہونے کا انکشاف

پاکستان میں سگریٹ کی مجموعی مارکیٹ کے 54 فیصد سگریٹ غیر قانونی طور پر فروخت ہونے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ 413 سگریٹ برانڈز میں سے صرف 19 برانڈز پر ٹریک اینڈ ٹریس ٹیکس سٹیمپ موجود پائی گئی ہے۔

اس بات کا انکشاف گزشتہ روز انسٹیٹیوٹ آف پبلک اوپینین ریسرچ کی سگریٹ انڈسٹری میں ٹریک اینڈ ٹریس نظام پر عملدرآمد کے حوالے سے ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کیا گیا۔

پاکستان اسٹوریز فیس بک  پاکستان اسٹوریز ایکس  پاکستان اسٹوریز لنکڈان    پاکستان اسٹوریز یوٹیوب  پاکستان اسٹوریز انسٹاگرام

رپورٹ کے مطابق ملک کے 19 اضلاع میں سیگریٹ انڈسٹری پر نافذ العمل ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عملدرآمد کے حوالے سے جائزہ لیا گیا، سروے میں کل 413 سگریٹ برانڈز کی نشاندہی کی گئی جن کا ایف بی آر کے سسٹم میں اندراج ہی نہیں۔

سال 2025 میں پیسے کمانے کے آسان طریقے

رپورٹ کی لانچنگ کے موقع پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر IPOR طارق جنید نے کہا کہ ملک کے 19 اضلاع کے 1,520 ریٹیل آٹ لیٹس کا سروے کیا گیا، اس دوران 413 سے زائد سگریٹ برانڈز کی شناخت کی گئی۔

سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ ان 413 سگریٹ برانڈز میں سے صرف 19 برانڈز مکمل طور پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم (TTS) کی تعمیل کر رہے ہیں جبکہ 13 جزوی طور پر۔

رپورٹ یہ بات بھی سامنے آئی کہ دیہی علاقوں میں بغیر ٹیکس سٹیمپ کی شرح 58 فیصد جبکہ شہری علاقوں 49 فیصد سے زیادہ ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ صرف 95 سگریٹ برانڈز پر حکومت پاکستان کی مجوزہ تصویری ہیلتھ وارننگ موجود تھی، فروخت ہونے والے 286 سگریٹ برانڈز پر نہ تو ٹیکس اسٹیمپ موجود تھی اور نہ ہی حکومت پاکستان کی منظور کردہ تصویری ہیلتھ وارننگ شایع کی گئی تھی۔

وہ 3 ڈگریاں جن کی سال 2025 سے مانگ بڑھ رہی ہے

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں 2009 میں تصویری ہیلتھ وارننگ کا نفاذ لازمی قرار دیا گیا تھا مگر 16 سال بعد بھی مارکیٹوں میں بغیر منظور کردہ تصویری ہیلتھ وارننگ کے سگریٹ پیکٹ سرعام فروخت ہو رہے ہیں۔

تحقیقاتی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 54 فیصد سگریٹ برانڈز پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے تحت ٹیکس سٹیمپ نہیں لگائی جا رہی ہے، ان میں سے 45 فیصد اسمگل شدہ برانڈز اور 55 فیصد مقامی طور پر تیار شدہ سگریٹ برانڈز شامل ہیں۔

اس کے علاوہ 332 سگریٹ برانڈز حکومت پاکستان کی طے کردہ کم از کم قیمت 162.25 روپے سے کم پر فروخت ہو رہے تھے جن میں بعض صرف 40 روپے میں فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے جس کے نتیجے میں حکومت کو محصولات میں اربوں روپے کا سالانہ نقصان ہو رہا ہے۔

رپورٹ کی لانچنگ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر IPOR کے طارق جنید نے مزید کہا کہ سمگل اور ڈیوٹی ادا نہ کرنے والے سیگریٹ برانڈز کی وجہ سے ملکی خزانہ کو اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، حکومت اگر سگریٹ انڈسٹری میں ٹیکس چوری کی طرف توجہ دے تو پاکستان کو باہر سے قرض لینے کی ضرورت نہ پڑے ۔

انہوں نے کہا کہ احکامات پر عمل نہ کرنے اور سمگل شدہ سگریٹس کی زیادہ مقدار حکومت کو ضروری محصولات سے محروم کر رہی ہے، اس صورتحال کا فوری طور پر حل نکالنا ضروری ہے تاکہ محصولات کے نقصان کو روکا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -

مقبول ترین