رجب قمر
گلگت بلتستان پہاڑوں گلیشئرز اور تازہ پانی کا عالمی بینک ہے اور اس خطے کو معاشی و اقتصادی راستوں کا گیٹ وے بھی سمجھا جاتا ہے۔
گلگت بلتستان میں رزق کے کئی دروازے ایک ہی وقت میں کھلتے ہیں، اس نے اپنی لاثانی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر ماضی میں ذرائع نقل و حمل میں مشکلات کے باوجود جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیاء کو تجارتی بندھن میں جوڑے رکھا جبکہ انسانوں اور جانوروں سے بار برداری کا کام لینے والے زمانے میں گلگت بلتستان کے عوام ان تجارتی راستوں سے استفادہ کرتی تھے۔
پاکستان سٹوریز کے سوشل میڈیا پیجز کو فالو کریں تاکہ مستند معلومات آپ تک پہچنتی رہیں۔پاکستان اسٹوریز فیس بک پاکستان اسٹوریز ایکس پاکستان اسٹوریز لنکڈان پاکستان اسٹوریز یوٹیوب پاکستان اسٹوریز انسٹاگرام
شاہراہ خوبانی تاریخی اور قدیم تجارتی راستہ ہے جو بلتستان کی وادی شگر سے چین کی صوبہ سنکیانگ کے تاریخی شہر یارقند کو ملاتی ہے جیسے گلگت سے کاشغر کو ملانے والے تجارتی راستے کو شاہراہ ریشم کہا جاتا ہے اسی طرح بلتستان سے یارقند کو ملانے والے تجارتی اور تاریخی روٹ کو شاہراہ خوبانی کہا جاتا ہے، شاید اس کی وجہ زمانہ قدیم میں اس راستے سے بلتستان اور یارقند کے درمیان خشک خوبانی کی تجارت تھی۔
شاہراہ خوبانی موسم گرما کا تجٓارتی راستہ ہوا کرتا تھا جو کہ دشوار گزار راستوں پہاڑی دروں اور پر خطر گلیشئرز سے ہو کر گزرتی ہے، ان مشکل حالات میں یہ لداخ اور چین میں بسنے والے بلتیوں کے درمیان نقل و حمل کا اور لیں دین کا راستہ ہوا کرتا تھا تاہم گلیشئزز کے بڑھنے اور متبادل تجارتی راستوں کی دستیابی کی وجہ سے شاہراہ خوبانی متروک ہو چکا ہے
شگر سے یارقند جانے کے لئے راستے میں گلیشئرز پر مشتمل مزتغ پاس سے گزرنا پڑتا ہے جو انتہائی دشوار گزار ہے، چین کے شہر یارقند میں اس وقت بھی بلتی زبان بولنے والے لوگ آباد ہیں۔
20ویں صدی میں ایک انگریز مہم جو ایرک شپٹن اس راستے کو استعمال کرتے ہوئے شگر سے یارقند پہنچے اور اس کے بعد ایک پاکستانی مہم جو سلمان راشد نے 2005ء میں شاہراہ خوبانی کو استعمال کرتے ہوئے شگر سے یارقند کا سفر کیا۔ گوگل کے مطابق شگر سے یارقند کا فاصلہ 354 کلو میٹر ہے۔
یہ راستہ بلند و بالا پہاڑوں اور گلیشئرز پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے روڈ بنانا آسان نہیں تاہم یہ نا ممکن بھی نہیں۔ اس روڈ کو سرنگوں کے ذریعے بحال کیا جا سکتا ہے۔
فرض کریں اگر 354 کلومیٹر میں سے اگر 100 کلومیٹر سرنگ بنانی پڑے تو اس سرنگ کی لاگت 200 ارب روپے ہو گی اور اس روڈ پر تقریبا 500 ارب روپے کا خرچہ آئے گا۔
کیا حکومت پاکستان اتنی خطیر رقم خرچ کر کے شگر کو یارقند سے ملائے گی اور کیا حکومت پاکستان کی موجودہ معاشی حالت ایسے میگا پروجیکٹ پر 500 ارب روپے خرچ کرنے کا سوچ سکتی ہے؟ مجھے یہ ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ اس سے بھی منافع بخش راستہ سکردو کرگل روڈ اور اشکومن سے تاجکستان روڈز ہے، عوام کا دیرینہ مطالبہ ہونے کے باوجود اس تجارتی راستوں کو نہیں کھولا جا رہا ہے۔
اگر حکومت گلگت بلتستان سے مخلص ہے تو فوری طور پر اشکومن سے تاجکستان اور کرگل سکردو روڈ کو تجارت اور منقسم خاندانوں کی آمد و رفت کے لئے کھولنے کے اقدامات کرے، شونٹر پاس پر ٹنل بنا کر استور سے نیلم آزاد کشمیر کو ملانے پر فوری کام شروع کریں تاکہ گلگت بلتستان، مظفرآباد اور اسلام آباد کے درمیان فاصلوں کو کم کر کے عوام کو سفری سہولت دی جا سکے۔