چین میں نئے سال کی ابتدا کے ساتھ ہی نئے وائرس ایچ ایم پی وی کے تیزی سے پھیلنے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں جس نے دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نئے وائرس کو ہیومن میٹاپنیو وائرس (HMPV) کا نام دیا گیا ہے، وائرس سے نمٹنے کیلئے چینی حکام نے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
واضح رہے کہ آج سے 5 سال قبل 2020 میں چین کے صوبے ووہان سے پھیلنے والے کورونا وائرس نے پوری دنیا میں خوف اور تباہی پھیلا دی تھی جبکہ اس سے لاکھوں اموات بھی ہوئی تھیں۔
میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ نئے وائرس سے متاثرہ مریضوں میں نزلہ اور بخار جیسی علامات پائی گئی ہیں، کورونا کے مریضوں میں بھی ایسی ہی علامات پائی گئی تھیں۔
انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں چین میں مریضوں سے بھرے ہوئے اسپتالوں کو دکھایا گیا ہے، تاہم ان ویڈیوز کی دیگر زرائع سے تصدیق نہیں کی جا سکی۔
دوسری جانب چین کی بیماریوں کے کنٹرول سے متعلق ادارے نے نمونیا کی نامعلوم قسم کے لیے مانیٹرنگ سسٹم کا اعلان کیا ہے،
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے گزشتہ ہفتے خبر دی تھی کہ موسم سرما کے دوران سانس کی بیماریوں میں اضافے کا خدشہ ہے، جس کی وجہ سے حکام نے نامعلوم جراثیموں سے نمٹنے کے لیے ’پروٹو کول‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ہیومن میٹا پینو وائرس نظام تنفس پر حملہ کرنے والا وائرس ہے جو کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد کو آسانی سے نشانہ بنا سکتا ہے۔
اس وائرس کی ابتدائی علامات میں نزلہ، زکام ، بخار ، کھانسی وغیرہ شامل ہیں۔