محمد نوید خان
کراچی کا بدنام زمانہ ڈان شعیب خان جس کی جوئے کی غیر قانونی سلطنت کراچی سے لے کر افریقہ اور دوبئی تک پھیلی ہوئی تھی۔ جس کو انتہائی شاطر اور چالاک سمجھا جاتا تھا۔ جو بے رحمی میں اپنی مثال آپ تھا۔
یہ وہ ہی شعیب خان ہے جس نے ایک اور بدنام زمانہ ڈان ابراہیم بھولو کو قتل کیا تھا۔ ابراہیم بھولو کی کہانی پڑھیں۔
کراچی کا قصاب ابراہیم بھولو جس کے بارے میں مشہور تھا ‘وہ بات کم کرتا اور بندوق زیادہ چلاتا ہے’
شعیب خان انتہائی خطرناک ملزم تھا جس کے ایک نہیں کئی پولیس افسران اور اہلکاروں کو قتل کیا تھا۔ جرائم اور اندر ورلڈ کی دنیا میں ریاست اور حکومتیں بہت کچھ برداشت کر جاتی ہیں مگر پولیس اہلکاروں پر ہاتھ اٹھانا اور ان کو قتل کرنا یہ عموماً برداشت نہیں کیا جاتا اور جو بھی انڈر ورلڈ ڈان ایسی غلطی کرے پھر اس کے خلاف ریاستی مشنری پوری قوت سے سامنے آتی ہے۔
شعیب خان پولیس کیلئے اتنا خطرناک ہوچکا تھا کہ اس اس کے خلاف براہ راست اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کو حکم جاری کرنا پڑا اور پھر ملک کے سب سے بڑے خفیہ ادارے کے سربراہ کو اقدامات اٹھانا پڑے تھے۔
پاکستان سٹوریز کے سوشل میڈیا پیچز
پاکستان اسٹوریز فیس بک پاکستان اسٹوریز ایکس پاکستان اسٹوریز لنکڈان پاکستان اسٹوریز یوٹیوب پاکستان اسٹوریز انسٹاگرام
پولیس کی مخبری سے جوئے کا کاروبار
مختلف ریکارڈز وغیرہ کا جائزہ لینے کے بعد پتا چلتا کہ جرم کی دنیا شعیب خان کے لیے کوئی نئی نہیں تھی۔اس کے والد اختر علی پہلے ہی جوئے اور سٹے سے منسلک تھے۔ شعیب خان کا بچپن بھی عام لوگوں کا بچپن نہیں تھا۔ وہ بچپن ہی میں لوگوں سے الجھ جاتا، گروپ بندی، لڑائی جھگڑا سب کچھ کرتا تھا۔
شعیب خان نے اوائل عمری میں عزیزآباد کراچی میں موٹر سائیکل کرائے پر دینے کا کام شروع کیا مگر یہ اصل کام نہیں تھا۔ اس کام کی آڑ میں وہ پولیس کا مخبر بن گیا تھا۔ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ شعیب خان کے والد کے پہلے سے پولیس سے تعلقات تھے تو ان کی وجہ سے شعیب خان بھی پولیس کا مخبر بن گیا۔
کئی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اس زمانے میں سنٹرل ڈسڑکٹ میں سٹے اور جوئے کے کاروبار پر شعیب خان کے والد کا قبضہ تھا اور یہ کاروبار پولیس کی ملی بھگت سے ہوتا تھا۔ شعیب خان کے ایک بھائی وی سی آر کرائے پر دینے کام بھی کرتے تھے۔
کرائے پر موٹر سائیکل کا کام تو درحقیقت کچھ بھی نہیں تھا۔ اس کام سے شعیب خان مخبری کے لیے رابطے بڑھاتا تھا اور یہیں سے شعیب خان نے جوئے کے کاروبار میں ہاتھ پاؤں چلانا شروع کر دیے تھے۔
کچھ کی رائے ہے کہ اس کام کو شروع کرتے ہی اس کا رابطہ بے نظیر بھٹو کے ذاتی محافظ رہنے والے خالد شہنشاہ سے ہوا۔ خالد شہنشاہ بھی اپنے دور میں کراچی میں معروف تھا جو کہ الذوالفقار سے بھی منسلک رہا تھا۔ شعیب خان دراصل ڈان بننے کا شوقین تھا او اس کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار تھا۔
شعیب خان کے لیے خالد شہنشاہ کی دوستی ایک موقع تھا کہ گلی محلے کی بدمعاشی اور پولیس کی مخبری سے آگے بڑھ کر بے تاج بادشاہ بنے۔ خالد شہنشاہ کے لیے بھی شعیب خان ایک ایسا مہرہ تھا جو ان کے بہت کام آ سکتا تھا۔ پھر ایک ایسا واقعہ ہوا کہ خالد شہنشاہ بھی حیران رہ گیا کہ یہ شعیب خان چیز کیا ہے۔
شعیب خان کا پہلا قتل اور اسلم ناتھا سے ملاقات
کئی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ شعیب خان نے اپنا پہلا قتل بھی خالد شہنشاہ کے ہمراہ کیا تھا۔ یہ واقعہ تھوڑے بہت فرق کے ساتھ کچھ اس طرح بتایا گیا ہے کہ شعیب خان اور خالد شہنشاہ کسی وکیل کے دفتر میں گئے تھے جہاں پر خالد شہنشاہ کا ایک شخص اقبال نیازی کے ساتھ جھگڑا ہوا اور اقبال نیازی نے خالد شہشاہ پر حملہ کیا تو شعیب نے اچانک پستول نکال کر اقبال کو گولی ماری۔
اس کے بعد لیاقت آباد کراچی میں ایک اور قتل بھی شعیب خان کے کھاتے میں پڑا تھا۔
اب شعیب خان اپنی پرانی خواہش ڈان بننے کی راہ پر گامزن تھا۔ اس کا بیک گراونڈ سٹے اور جوئے کا کاروبار تھا جو کہ پولیس کی معاونت کے بغیر نہیں چل سکتا تھا۔ اس لیے شعیب خان نے بھی اعلیٰ پولیس افسران کے ساتھ تعلق اور رابطے بڑھانے کے لیے اپنا دائرہ کار بڑھا دیا تھا۔ اس کی پارٹیاں کراچی کے خاص حلقوں میں کافی شہرت رکھتی تھی۔
اس دوران اس پر کئی مرتبہ مختلف مقدمات درج ہوئے جن میں اس کو کئی مرتبہ جیل اور حوالات میں رکھا گیا۔ مگر وہ شعیب خان تھا جس کے لیے جیل اور حوالات کوئی معنی نہیں رکھتے تھے۔ یہ اس صدی کا آغاز تھا جب جیل میں شعیب خان کی ملاقات کراچی میں جوے، سٹے، بھتے، قتل وغارت، قبضے اور دیگر کئی جرائم میں ملوث اسلم ناتھا سے ہوئی۔
اسلم ناتھا بہت پہنچا ہوا تھا مگر جرائم کی دنیا میں صرف دشمنیاں بنتی ہیں دوستیاں نہیں اور یہی اسلم ناتھا کے ساتھ ہوا۔ جیل میں اسلم ناتھا پر کسی نے حملہ کر دیا۔ اس موقع پر شعیب خان نے اسلم ناتھا کی مدد کی اور اس کو حملہ آور سے بچایا۔
یہاں سے شعیب خان کی زندگی کا ایک اور دور شروع ہوتا ہے جس کے بعد شعیب خان نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
انڈیا سے رابطے اور جوئے کی نئی سلطنت
اسلم ناتھا شعیب خان سے بہت متاثر ہوا اور کراچی میں جوئے کے بادشاہ نے عملاً شعیب خان کو اپنی شاگردی میں لے لیا مگر شعیب خان اس کو دوستی کہتا تھا مگر اس نے اسلم ناتھا کہ سیٹرھی بنا کر استعمال کیا۔
جیل سے رہائی کے بعد شعیب خان نے اسلم ناتھا کے کئی دشمنوں سے مقابلہ کیا۔ دونوں میں اتنا اعتماد بڑھا کہ اس زمانے میں کراچی کا عرشی سیمنا جو جوئے کا ایک بڑا مرکز سمجھا جاتا تھا کہ انتظام اسلم ناتھا نے شعیب خان کے حوالے کر دیا مگر کئی مواقع پر شعیب خان کو احساس ہوا کہ ڈان تو اسلم ناتھا ہے اور وہ صرف احکامات پر عمل کرنے والا۔
بس یہاں سے اسلم ناتھا اور شعیب خان کے درمیاں تعلقات خراب ہونا شروع ہوئے، ویسے بھی شعیب خان ہر ایک کو استعمال کرتا اور پھینک دیتا تھا اس نے اسلم ناتھا کو قتل کر دیا۔
اب شعیب خان ڈان بن چکا تھا اور یہاں سے غیر قانونی جوئے اور سٹے کے کاروبار نے ایک نئی منزل پکڑی اور وہ انڈیا تھی۔ اس دور میں کرکٹ پر بہت بڑا جوا لگتا تھا۔ انڈیا میں جوئے کے لیے بک متعارف کروائی گئی اور انڈیا سے یہ بک کراچی اور پاکستان بھی پہنچ گئی تھی۔ یہ دھندہ کراچی کے اندر ورلڈ کے لیے نیا تھا اور شعیب خان اس پر چھا گیا تھا کرکٹ کی بکس پر بھی اس کا کنٹرول تھا۔
مگر اسلم ناتھا کے دوست اور گروپ شعیب خان کو معاف کرنے کو تیار نہیں تھا۔ وہ اسلم ناتھا کی جوئے کی سلطبت پر قبضہ بھی برداشت ہیں کر رہے تھے۔ یہاں سے کہانی ایک نیا رخ اختیا کرتی ہے۔ شعیب خان اس دوران ایم کیو ایم کے عسکری ونگ سے بھی ٹکرا گیا تھا جس کی ایم کیو ایم ہمشیہ تردید کرتی رہی۔
اس دوران پوری دنیا کے میڈیا پر انڈیا کا انڈدر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم چھایا ہوا تھا اور شعیب خان داؤد ابراہیم سے بہت متاثر تھا۔
داؤد ابراہیم سے رابطے
داؤد ابراہیم کو انڈیا کی پولیس اپنی پوری قوت سے تلاش کررہی تھی مگر تلاش نہیں کر پارہی تھی۔ شعیب خان جوئے کے کاروبارسے منسلک ہونے کی بناء پر سمجھ چکا تھا انڈیا اور ہو یا کراچی اصل جوئے اور سٹے کے کاروبار میں بادشاہی داؤد ابراہیم کی ہے۔ شعیب خان نے داؤد ابراہیم سے ملاقات کی راہیں تلاش کرنا شروع کر دیں۔
شعیب خان کو یہ راستہ ایک مشترکہ دوست نے دکھایا اور بہت سے حلقوں کا دعویٰ ہے کہ شعیب خان اور داؤد ابراہیم کی ملاقات دبئی میں ہوئی اور یہاں سے شعیب خان کے لیے دبئی تک اپنی جوئے کی سلطنت بڑھانے کا موقع مل گیا تھا۔
شعیب خان نے دبئی میں بھی جوا شروع کر دیا مگر وہ دبئی میں بھی قتل سے باز نہیں آیا۔ اس کے زیر انتظام جوئے کے اڈے میں ایک شخص عرفان گوگا جوئے کی بڑی رقم جیتا تو شعیب خان کا اس سے جھگڑا ہوا اور شعیب خان نے اس کو قتل کروا دیا۔ اس کی لاش تو کبھی نہیں ملی مگر اس کی گاڑی مل گئی تھی۔
کہا جاتا ہے کہ شعیب خان نے اس کی لاش کو تیزب میں پھینک دیا تھا۔ یہ سفاکی کی انتہا تھی۔ گوگا داؤد ابراہیم کا بھی دوست تھا۔ داؤد ابرہیم کے سامنے شعیب کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ داؤد ابراہیم نے گوگا کے قتل پر شعیب سے بات کی تو اس نے قصے کہانیاں بناکر داؤد ابراہیم کو مطمئن کر دیا۔ اصل میں اس وقت داؤد ابراہیم کا قریبی ساتھی چھوٹا راجن ہی داؤد ابراہیم کا دشمن بن گیا تھا اور داؤد ابراہیم کو بھی شعیب خان کی ضرورت تھی۔
گوگا قتل کیس کی تفتیش کے دوران جب دبئی پولیس شعیب تک پہنچی تو یہ فرار ہو گیا۔ اس وقت داؤد ابراہیم کو بھی دبئی چھوڑنا پڑ کہ انڈیا کی حکومت ہر صورت داؤد ابراہیم کو گرفتار کرنا چاہتی تھی۔
چھوٹا راجن کو ٹھکانے لگانے کا حکم
داؤد ابراہیم کی مکمل کہانی آنے والے دنوں میں پیش کی جائے گی۔ اس کے لیے اپ پاکستان سٹوریز کے سوشل میڈیا پیچز فالو کرلیں۔
پاکستان اسٹوریز فیس بک پاکستان اسٹوریز ایکس پاکستان اسٹوریز لنکڈان پاکستان اسٹوریز یوٹیوب پاکستان اسٹوریز انسٹاگرام
کہا جاتا تھا کہ چھوٹا راجن درحقیقت انڈیا کی حکومت کے ساتھ مل کر داؤد ابراہیم کو تلاش کر رہا تھا۔ داؤد ابراہیم کا اس کو سبق سکھانا ضروری تھا۔ داؤد ابراہیم نے شعیب خان سے کہا کہ وہ چھوٹا راجن کو قتل کرے۔ اس کے لیے شعیب خان نے ابراہیم بھولو کو سپاری دی تھی۔
ابراہیم بھولو کی کہانی پاکستان سٹوریز پر چھپ چکی ہے جسے یہاں پڑھ سکتے ہیں۔
کراچی کا قصاب ابراہیم بھولو جس کے بارے میں مشہور تھا ‘وہ بات کم کرتا اور بندوق زیادہ چلاتا ہے’
داؤد ابراہیم کی فرمائش پر شعیب خان نے بھولو سے کہا کہ چھوٹا راجن کو ٹھکانے لگانا ہے۔ اس کی باقاعدہ سپاری دی گئی مگر وہ بچ نکلا۔
شعیب خان کا آئیڈیل داؤد ابراہیم تھا وہ اس جیسا بننا چاہتا تھا، کراچی واپس پہنچ کر اس نے انتہائی حساس مقام پر جوئے کا اڈا کھول لیا تھا۔ اس کے بارے میں پورے شہر کو پتا تھا مگر اس کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا رہا تھا۔
شعیب خان بڑھتا ہی چلا جارہا تھا۔ اس کے رابطے متحدہ عرب امارات سے نکل کر افریقہ تک پھیل چکے تھے۔ وہ خود کو بلا شرکت غیرے کراچی کا بادشاہ سمجھتا تھا۔ شعیب خان کی رسائی بہت اوپر تک چلی گئی تھی۔ سب سیاسی جماعتوں سے رابطے تھے مگر ایم کیو ایم مخالف تھی۔
صدر مشرف کو مداخلت کرنا پڑی
صدر مشرف کا دور شروع ہوچکا تھا۔ ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کرنے والے پولیس افسران اب ایم کیو ایم سے تعلقات بڑھا رہے تھے۔ ایم کیو ایم صدر مشرف کی ناک کا بال بن چکی تھی جبکہ شعیب خان داؤد ابراہیم بننے کے چکر میں اپنے ساتھیوں تک کو قتل کروا دیتا تھا۔
کئی پولیس افسران کا کہنا تھا کہ شعیب خان بہت آگے چلا گیا تھا۔ چھوٹا راجن کے بچ جانے کے باعث داؤد ابراہیم اب شعیب خان پر اعتماد نہیں کرتا تھا جبکہ اسی سپاری میں شعیب نے ابراہیم بھولو کو بھی قتل کروا دیا تھا۔ اس پر داؤد ابراہیم کو اندازہ ہوا کہ شعیب خان خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
ابراہیم بھولو کے قتل پر کراچی پولیس بھی ناراض تھی مگر وہ شعیب خان کے خلاف کارروائی نہیں کرتی تھی۔ ایم کیو ایم بھی ناراض تھی مگر اس کا کبھی بھی برملا اظہار نہیں کیا بلکہ ہمیشہ اس کی تردید کرتے تھے یہاں تک کہ اس وقت کے گورنر نے صدر مشرف کو کہا ہے کہ شعیب خان کے خلاف کارروائی نہیں ہو رہی۔
یہاں پر شعیب خان سے ایک اور بہت بڑی غلطی ہوئی کہ اس نے انسپکٹر ذیشان کاظمی کے قتل میں بھی کردار ادا کیا۔ مگر شعیب خان کے خلاف تھوس کارروائی نہیں ہورہی تھی اس بارے میں سابق گورنر عشرت العباد نے بھی کہا کہ پولیس شعیب خان کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی ہے۔

اس صورتحال پر عشرت العباد نے سابق صدر پرویز مشرف سے وقت مانگا اور کہا کہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔ اس ملاقات کے بعد صدر مشرف نے اس وقت کے آئی ایس آئی سربراہ کو پیغام بھجا کہ کسی بھی جرائم پیشہ کے خلاف ریاست کے اداروں کی پشت پنائی نہیں ہونا چاہیے۔ اس ملاقات کے بعد سندھ حکومت کو کارروائی کا مکمل اختیار مل گیا تھا۔
سندھ حکومت کی کارروائی کا آغاز
اب شعیب خان کے خلاف کارروائی کا آغاز ہوچکا تھا۔ تمام ایسے افسران کے تبادلے ہوئے جنھیں شعیب خان کا ہمدرد اور دوست سمجھا جاتا تھا۔ ادھر شعیب خان نے ابراہیم بھولو کے کیس میں ضمانت حاصل کر لی تھی۔
شعیب خان کو سمجھ آگئی کہ وہ کراچی میں نہیں رہ سکتا اور لاہور منتقل ہوا مگر جب ریاست فیصلہ کر لے تو پھر شعیب خان ہو یا کوئی اور بچنا مشکل ہوتا ہے۔ سال 2004 میں اطلاع ملی کہ شعیب خان کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔
شعیب خان کی گرفتاری چوہدری اسلم اور ان کے ساتھی عرفان بہادر نے کی تھی۔ شعیب خان نے چھپنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکا تھا۔
یہ گرفتاری بھی کوئی آسان نہیں تھی کئی رکاوٹیں تھیں۔ کراچی پولیس کو شعیب خان کے اپنے کینٹ کے علاقے سے باہر نکلنے کا انتظار کرنا پڑا اور جب باہر نکلا تو اس کو دبوچ لیا گیا۔ اب کراچی پہنچانا ایک نیا مرحلہ تھا مگر اسے بحفاظت کراچی پہنچا دیا گیا تھا۔
یہاں اسے انتہائی کڑے پہرے میں رکھا گیا مگر 27جنوری 2005 کو اعلان کیا گیا کہ شعیب خان دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہوگیا ہے۔ یہ موت فطرتی تھی یا نہیں اس سوال کا جواب اج تک نہیں مل سکا۔