جمعہ, اپریل 4, 2025
ہوماہم خبریںبچے کی پہلے 5 سال کی خوراک جس کے اثرات پوری زندگی...

بچے کی پہلے 5 سال کی خوراک جس کے اثرات پوری زندگی پر پڑتے ہیں

نورین محمد سلیم

ماہرین متفق ہیں کہ کسی بھی بچے کی زندگی کے پہلے پانچ سال یعنی دو ہزار دو دن اس کی صحت، جسمانی نشرونما کے لیے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ اس عرصہ میں جس طرح کی خوراک بچے کو دی جاتی ہے اس کے اثرات اس کی پوری زندگی پر پڑتے ہیں۔

پہلے پانچ سال بچے کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اس لیے پہلے پانچ سال میں بچوں کو وہ ہی خوراک دینی چاہیے جو اس کے مستقبل کو شاندار اور بہترین بنا سکے۔

اس میں چند خوراکیں اور چند چیزیں اہم ہیں جن کا ہم مرحلہ وار جائزہ لیتے ہیں۔

کوئی نعم البدل نہیں

جی ہاں یہ سچ ہے کہ ماں کے دودھ کا کوئی نعم البدل نہیں۔ دید ترین تحقیق ثابت کر رہی ہے کہ چھ ماہ کی عمر تک صرف ماں کا دودھ پلانا چاہیے اور یہ وہ اسلامی تعلیمات ہیں جو 1400 سال پہلے مسلمانوں کو نبی کریم ﷺ نے سکھا دی تھیں۔ 6 ماہ تک بچے کو پانی کی بھی ضرورت نہیں ہوتی ہے صرف ماں کا دودھ ہی کافی ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ماں کے دودھ میں بچے کی ضرورت کے تمام اجزاء اور طاقت سب کچھ موجود ہے جو نہ صرف اس کو ہر قسم کی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے بلکہ ماں کا دودھ بچے میں دمے، ذیابطیس ٹائپ ٹو یا موٹاپے جیسی بیماریوں کے خطرات کو بھی کم کردیتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ماں نے بچے کی نشرونما کرنی ہوتی ہے اس لیئے ماں کو ہمیشہ اچھی خوراک استعمال کرنا چاہیے۔ بچے کو دودھ پلانے والی ماں کو چاہیے کہ وہ ہر صورت میں دن میں ایک انڈا، ہفتے میں ایک بار مچھلی استعمال کرئے تاکہ بچے کی دماغی نشونما بھی اچھی ہوسکے۔

ماہرین کی رائے ہے کہ اگر ضروری ہو اور ڈاکٹر مشورہ دے تو پھر وٹامن ڈی، اومیگا اور آئرن سپلیمنٹ لینے چاہئیں۔ ہوسکتا ہے کہ بہت سے خاندانوں کے لیے یہ بہت مہنگا ہو تو دودھ پلانے والی ماوں کو مناسب خوراک کا استعمال کرنا چاہیے۔

کچھ کیسز میں ماں کسی وجہ سے بچے کو دودھ نہیں پلا سکتی تو پھر ڈاکٹر فارمولا ملک تجویز کرتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت رائے دیتا ہے کہ بچوں کو دو سال تک ماں کا دودھ پلانا چاہیے اور چھ ماہ کی عمر میں ماں کے دودھ کے علاوہ کوئی خوراک نہیں دینی چاہیے۔

چھ ماہ بعد کیا خوراک دیں؟

ْْْْْْْْْْْْْْعالمی ادارہ صحت کی رائے میں چھ ماہ کے بعد بچے کو ماں کے دودھ کے ساتھ دلیہ اور پھل کا استعمال کروانا چاہیے۔ یہ دن میں ایک مرتبہ بھی کافی سمجھا جاتا ہے تاہم جب بچہ چھ ماہ سے بڑھتا ہے تو ساتویں اور آٹھویں ماہ میں دن میں دو بار دینا چاہیے۔

8ویں ماہ میں مختلف خوارک دینے کا عمل آہستہ آہستہ شروع ہونا چاہیے۔ اس میں سیریل، پروٹین، سبزی، دالیں شامل ہیں مگر نمک نہیں ہونا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق بچے کو صحت مند، صاف ستھری غذا دینی چاہیے اس میں مختلف اجزا شامل ہونے چاہیئں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات کا خاص طور پر دھیان رکھنا چاہیے کہ بچے کو جو بھی خوراک دی جا رہی ہے اس میں مختلف اجزا شامل ہوں۔ اس کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ پروسیسڈ اور انڈسٹریل کھانے نہیں بلکہ قدرتی غذا ہونی چاہیے اور مصنوعی اجزا کی مقدار کم ہو۔

سبزیوں کا استعمال کیسے

ماہرین کے مطابق بڑے ہوں یا بچے خوراک میں اہم ترین سبزیوں کا استعمال ہے اور یہ فرد کی خوراک کا 50 فیصد ہونا لازمی ہے۔

ماہرین یہی بچوں کے لئے بھی تجویز کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ایک سے دو سال کی عمر تک بچوں کو دن میں دو بار جب کہ دو سے پانچ سال تک کے بچوں کو دن میں تین مرتبہ سبزی استعمال کروانی چاہیے۔ اس میں پتوں والی سبزیاں فائبر، وٹامن کے ساتھ ساتھ فولک ایسڈ اور آئرن شامل ہوتے ہیں۔۔ آئرن دماغی نشونما کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق دیکھا جارہا ہے کہ بچوں میں آئرن کی کمی بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ جس کی وجہ سے بچے میں خون کی کمی کے باعث نشونما پر برا اثر پڑتا ہے۔

فولک ایسڈ کی کمی اعصابی نظام کے لیے نقصان دہ ہے اور جو تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں ان کا علاج مشکل ہوجاتا ہے۔ فائبر کی کمی قبض، الرجیز اور قوت مدافعت میں کمی کا سبب بن جاتی ہے۔

جدید تحقیق کے مطابق وٹامن سی کی کمی والے بچے جلد، خون کے مسائل کے علاوہ دانتوں، کمزور ہڈیوں جیسے مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔ وٹامن اے کی کمی پانچ سال سے کم عمر بچوں میں کمزور نظر کا سبب بن سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق گاجر اور کدو وٹامن اے، بینگن کیلشیئم، میگنیشیئم، پوٹاشیئم اور وٹامن بی فائیو کا بھرپور ذریعہ ہیں۔ بروکولی وٹامن کے، وٹامن سی اور وٹامن اے کے علاوہ پوٹاشیئم فراہم کرتی ہے۔

چاول، گندم، میدہ، روٹی، آلو، جو، مکئی کے گروپ پر مشتمل خوراک کو بچے کے کھانے کا 25 فیصد ہونا چاہیے۔

ہوزے نیلیو کاویناٹو کا کہنا ہے کہ یہ گروپ کاربوہائیڈریٹس اور وٹامن کے کے ساتھ ساتھ صحتمند چربی کا بھی ذریعہ ہے جن سے جسم کو توانائی ملتی ہے۔

کاربوہائیڈریٹس کی کمی برے موڈ کی شکل میں نظر آتی ہے لیکن دوسری جانب ان کی مقدار کا زیادہ ہونا موٹاپا، ذیابطیس اور دل کی بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے کو دی جانے والی خوارک میں 50 سے 60 فیصد کیلریز کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل ہونی چاہیں۔

انڈے اور گوشت

ماہرین کے مطابق دن میں عمر کے حساب سے بچے کی خوراک میں گوشت اور انڈے ضرور شامل ہونا چاہئیں۔ ایک سے تین سال کی عمر کے بچے دن میں کم از کم دو مرتبہ کچھ نہ کچھ گوشت یا انڈا شامل ہو۔ اس حساب سے اس میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ گوشت مرغی، گائے یا مچھلی کا بھی ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ پروٹین کے علاوہ آئرن فراہم کرتا ہے جو مدافعتی نظام کے لیے اہم ہے اور مدافعتی نظام کی کمزوری مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔

مچھلی اعصابی نظام کو مضبوط بنانے کے علاوہ آنکھ کے پردے کی نشونما میں بھی اہم کردار کرتی ہے اور اس سے موٹاپے اور بلڈ پریشر جیسی بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق انڈا پروٹین کا بڑا ذریعہ ہے مگر پروٹین کا واحد ذریعہ نہیں رکھا جانا چاہیے

دالیں اورسبزیوں کا آئل

ماہرین کے مطابق ماں باپ کو چاہیے کہ وہ بچے کی پلیٹ کا 8واں حصہ دالوں کو رکھیں۔ اس میں لوبیا، دالیں، چنے اور سویا بین ہیں جن میں وٹامن اور آئرن، زنک، میگنیشیئم جیسی اہم معدنیات شامل ہیں۔

میگنیشیئم کی کمی تھکاوٹ، زنک کی کمی کی وجہ سے بھوک میں کمی، سونگھنے اور چکھنے کی صلاحیت میں کمی اور قوت مدافعت میں کمی ہو سکتی ہے۔

ماہرین متفق ہیں کہ سبزیوں کے آئل کا استعمال لازمی ہونا چاہیے۔ اس میں میں زیتون کا تیل کنولا آئل، سورج مکھی، مکئی کا تیل، ناریل کا تیل شامل ہوسکتے ہیں۔ اس میں مختلف اجزا شامل ہوتے ہیں۔ زیتون کے تیل میں اومیگا تھری، سویا بین، کنولا، سورج مکھی تیل میں بھی اومیگا تھری ہوتا ہے۔

پھل اور دودھ کی تیارہ کردہ اشیا

پھل قدرتی طاقت کا زریعہ ہیں۔ ایک سے پانچ سال کی عمر کے بچوں کو پھل کا استعمال کھانے کے بعد کروانا چاہیے۔ بچوں کو جوس بھی دیا جاسکتا ہے مگر یہ پانی کا متبادل نہیں ہوسکتا ہے۔ صرف موسمی پھل ہی دیا جانا چاہیے۔ ان میں وٹامن اور فائبر ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایک سال کی عمر کے بچے کو دودھ سے تیار کردہ اشیاء استمعال کروانا چاہیے۔ دودھ، پنیر، دہی کیلشیئم فراہم کرتے ہیں جو ہڈیوں اور پٹھوں کی نشونما کے لیے ضروری ہیں۔

جو خاندان ایسے مہنگی اشیاء افورڈ نہیں کرسکتے وہ سیریل، دودھ یا دالیں، پالک وغیرہ استعمال کروائیں۔

کئی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ایک سال کی عمر تک بچے کو گائے کے دودھ سے پرہیز کروانا چاہیے۔ گائے کے دودھ میں ماں کے دودھ کی نسبت تین گنا زیادہ پروٹین ہوتی ہے جو موٹاپے کی وجہ بن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -

مقبول ترین