جمعہ, اپریل 4, 2025
ہومٹاپ اسٹوریملیریا اور ڈینگی کے بڑھتے کیسز کی وجوہات

ملیریا اور ڈینگی کے بڑھتے کیسز کی وجوہات

نورین محمد سلیم

پاکستان میں اس سال ملیریا اور ڈینگی کے کیسز میں بڑا اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ اضافہ گزشتہ سالوں کی نسبت زیادہ ہے۔ اب تک حکام کی جانب سے فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق پاکستان میں ڈینگی کے 10 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جبکہ ملیریا کے ساڑھے 5 لاکھ سے زیادہ کیسز کی اطلاع ہے۔

ماہرین کے مطابق ڈینگی اور ملیریا کے کیسز میں اضافے کی بڑی وجوہات میں ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیاں ہیں۔ پاکستان میں حکام کے مطابق اس سال کچھ علاقوں میں بارشیں 100 فیصد سے بھی زائد ہوئی ہیں۔ کچھ علاقوں میں ابھی تک بارشوں کا پانی نہیں نکلا ہے جس کی وجہ سے وہاں ڈینگی مچھر کی افزائش ہو رہی ہے جبکہ یہی ملیریا میں بھی اضافے کی بڑی وجہ ہے۔

ماہرین کے مطابق ڈینگی اور ملیریا کا حملہ ہو تو اس کے علاج میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈینگی میں قوت مدافعت ختم ہو جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ملیریا، ڈینگی اور چکن گونیا مچھر کے کاٹنے سے ہوتے ہیں اور اس کی تشخیص خون کے ٹیسٹ کمپلیٹ بلڈ کاؤنٹس (سی بی سی) سے ہوتی ہے۔ ان میں مریض کو ٹھیک ہونے میں ایک سے ڈیڑہ ماہ لگ سکتا ہے، ان سے بچاؤ کی کوئی ویکسین نہیں ہے اس لیے یہ دوبارہ بھی ہو سکتے ہیں۔

ان میں مریض کو تیز بخار ہوتا ہے۔ یہ سلسلہ کچھ دونوں تک چلتا ہے۔ ملیریا میں مخصوص دنوں کے بعد بخار اتر جاتا ہے جبکہ ڈینگی میں بخار ختم نہیں ہوتا ہے۔ ڈینگی میں پین کلر لینا بہتر رہتا ہے۔

ملیریا کا فوراً علاج شروع ہونا چاہیے۔ ملیریا کا خاتمہ ادوایات اور مناسب علاج ہی سے ممکن ہوتا ہے۔ ڈینگی کا حملہ ہونے کے بعد چار، پانچ دن تک پلیٹلیٹس کم نہیں ہوتے اس کے بعد کم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ ملیریا میں سرخ خلیے ٹوٹتے ہیں جس سے خون کی کمی ہونے لگتی ہے۔

ماہرین کے مطابق چکن گونیا میں وائرل بخار ہوتا ہے۔ ہاتھوں اور پیروں میں سوزش اور جسم پر نشانات پڑنے کے ساتھ پلیٹلیٹس کم ہوجاتے ہیں۔

چکن گنیا میں اموات انتہائی کم ہوتی ہیں جبکہ میلریا اور ڈینگی میں زیادہ اموات کا خدشہ رہتا ہے۔

ماہرین کے مطابق دیسی طریقے استعمال کرنے کی جگہ پر مناسب علاج پر توجہ دی جانی چاہیے جس میں پھل کے علاوہ ایسی خوراک استعمال کرنی چاہیے جس میں وٹامن سی اور ڈی موجود ہوں۔ تازہ پھلوں کا جوس اور او آر ایس کا استعمال فائدہ مند رہتا ہے۔

ایسے موسم جس میں مچھر پھیل رہے ہوں اس میں مچھروں سے بچاؤ کے اقدامات کرنا لازمی ہیں

متعلقہ خبریں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -

مقبول ترین