پاک فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر نے بنوں حملے کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو کٹہرے میں لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کی سلامتی کو یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گی۔
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے 4 مارچ کو فتنہ الخوارج کے دہشتگرد حملے کے بعد بنوں کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سی ایم ایچ میں زخمی اہلکاروں کی عیادت کی اور ان کی مستقل مزاجی اور غیر متزلزل عزم کو سراہا، پاک فوج کے سربراہ نے زخمی اہلکاروں کے بلند حوصلے اور عزم کی تعریف کی۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف نے کنٹونمنٹ پر دہشت گرد حملے کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا، آرمی چیف کو جاری آپریشنز اور علاقے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز سیکیورٹی فورسز نے بنوں کینٹ پر فتنۃ الخوارج کے دہشتگردوں کے حملے کو ناکام بناتے ہوئے تمام 16 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا تھا۔
دورے کے دوران آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ پاک فوج ریاست کی سلامتی، استحکام یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کرتی رہے گی اور ملکی استحکام کے لیے دہشت گردی کے خلاف دفاع کا فریضہ ادا کرتی رہے گی جب کہ کسی کو بھی ملکی امن اور استحکام میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
جنرل عاصم منیر نے مقامی برادری کے کلیدی کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قومی اتحاد ناگزیر ہے، انہوں نے یقین دلایا کہ مسلح افواج پاکستان کے عوام کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گی۔
آرمی چیف نے دہشت گردی کے اس گھناؤنے اور بزدلانہ واقعے میں اپنی جانیں گنوانے والے بے گناہ شہریوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔
انہوں نے یقین دلایا کہ اگرچہ اس واقعے کے ذمہ داروں کو بہادر جوانوں نے فوری طور پر ہلاک کر دیا تاہم اس بزدلانہ حملے کے منصوبہ ساز اور سہولت کار چاہے کہیں بھی ہوں انہیں بھی جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
پاک فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ بچوں، خواتین اور بزرگوں سمیت شہریوں کو وحشیانہ طور پر نشانہ بنانے سے خوارج کے اسلام دشمن ہونے کے حقیقی عزائم بے نقاب ہو گئے ہیں۔
آرمی چیف نے جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ان کی جرات مندانہ کارروائیوں کو سراہتے ہوئے حملہ آوروں کو کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے میں فوری اور فیصلہ کن رد عمل کی تعریف کی۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق آرمی چیف نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ فتنہ الخوارج سمیت دہشت گرد گروہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، حالیہ حملوں میں غیر ملکی ہتھیاروں کا استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ افغانستان ایسے عناصر کی محفوظ پناہ گاہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دشمن عناصر کی ایما پر کارروائی کرنے والے خوارج اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف جنگ اپنے منطقی انجام تک جاری رہے گی۔