پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں اے ایس آئی یوسف خان نے انتہائی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے توہین قرآن کے مسلح ملزم کو گرفتار کرلیا بلکہ مشتقل ہجوم سے بچانے میں بھی کامیاب ہوگئے۔
پشاور کے تھانہ خزانہ میں تعینات اسٹنٹ سب انسپکڑ یوسف خان اس وقت موقع پر پہنچے جب ملزم نے والد نے انہیں راستے میں روک کر مدد طلب کرتے ہوئے واعہ سے آگاہ کیا۔
پولیس افسر یوسف خان کے مطابق قران پاک کی بے حرمتی کرنے والے کے ہاتھ میں پستول تھا۔ اس کا والد، گھر والے سب ڈر رہے تھے جبکہ گھر کے باہر بڑی تعداد میں لوگ اکھٹے ہو چکے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملزم کے والد اسلحے کے باعث بیٹے کے قریب جانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاگل ہو چکا ہے اور کچھ بھی کر سکتا ہے، اس پر پولیس افسر نے خود آگے بڑھتے ہوئے خود کو کمرے میں بند کیے ہوئے ملزم سے بات چیت کر کے پہلے اسے غیر مسلح کیا اور پھر گرفتار کر کے گاڑی میں منتقل کیا۔
یوسف خان نے بتایا کہ ‘میں نے کمرے کا دروازہ کھٹکایا اور آواز دی کہ پولیس پہنچ چکی ہے باہر نکلو تمھیں کچھ نہیں ہوگا اور اگر باہر نہیں نکلو گے اور خود کو میرے حوالے نہیں کرو گے تو میں دروازہ توڑ کر اندر آجاؤں گا جس پر قران پاک کی بے حرمتی کرنے والے ملزم نے درازہ کھولا اور باہر نکل آیا اور اپنا پستول بھی میرے حوالے کر دیا’۔
انہوں نے بتایا کہ ‘گھر سے باہر مشتعل لوگوں کی بڑی تعداد اکھٹی ہو گئی تھی، میرے دل و دماغ میں ایک ہی بات چل رہی تھی کہ کیسے اپنی وردی کی لاج رکھی جائے اور ملزم کو صیح سلامت تھانے پہچایا جائے’۔
واضح رہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ کچھ عرصہ میں کئی ایسے واقعات ہو چکے ہیں جس میں توہین مذہب کرنے والوں کو مشتعل ہجوم نے پولیس کے پہرے کے دوران تھانے میں گھس کر قتل کیا ہے۔
ملزم مسلح اور مشتعل تھا۔
ملزم کے خلاف مقدمہ اے ایس آئی یوسف خان کی مدعیت میں درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ میں گشت پر تھا کہ اطلاع ملی کہ ایک فاترالعقل شخص نے قران پاک کی بے حرمتی کی ہے۔ اطلاع دینے والوں کے ہمراہ موقع پر پہنچا تو ملزم کے پاس پستول بھی تھا۔
مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ موقع پر ملزم کو قابو کیا اور قران پاک کے پھٹے ہوئے اوراق برآمد کرکے ملزم کو باحفاظت تھانے پہنچایا۔
اس واقعہ کا ایک اور مقدمہ بھی تھانہ خزانہ کے ایس ایچ او ناصر خٹک کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہجوم نے گرفتار ملزم کو پولیس سے چھڑانے کے لیے ہنگامہ آرائی کی اور تھانے پر حملہ کیا ہے۔
درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ لوگوں نے چارسدہ روڈ کو دونوں طرف سے بند کر دیا تھا جس پر پولیس نے علاقے کے علما اکرام، معززین کو بلایا اور یقین دلایا کہ پولیس قران پاک کی بے حرمتی کرنے والے ملزم کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کرے گی مگر چند شر پسند عناصر نے مذاکرات ناکام کرتے ہوئے ملزم کو قتل کرنے کے ارادے سے تھانے پر حملہ کردیا۔
درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ تھانے میں مال مقدمہ کی گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ پولیس کی بھاری نفری نے ملزمان کو روکنے کی کوشش کی تو انھوں نے پولیس پارٹی پر بھی حملہ کیا جس سے ایس پی انعام خان اور دیگر پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ یہ جلاؤ گھیراؤ ، روڈ بلاک 7 گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد پولیس مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے میں کامیاب ہوئی۔
ملزم کے والد نے کہا کہ مدد کرو
یوسف خان کا کہنا تھا کہ میں گزشتہ روز صبح چارسدہ روڈ پر پولیس موبائل میں گشت کر رہا تھا کہ ایک موٹر سائیکل سوار جس کے ساتھ ایک اور بندہ بھی تھا نے مجھے روک کر بتایا کہ اس کا بیٹا اس وقت گھر میں قران پاک کی بے حرمتی کر رہا ہے اور اس کے ہاتھ میں پستول ہے اور وہ اس کے قابو میں نہیں آرہا ہے۔
یوسف خان کا کہنا تھا کہ والد نے مجھے بتایا کہ اس وقت اس کے گھر کے باہر لوگ بھی اکھٹے ہو چکے ہیں ، صورتحال یہ ہے کہ کچھ بھی ہوسکتا ہے اور بیٹا فائرنگ بھی کرسکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک سنگین صورتحال تھی۔ میں نے فوراً تھانے میں اطلاع دی اور افسران بالا کی ہدایات پر حرکت میں آتے ہوئے موقع کی جانب روانہ ہوگیا۔
یوسف خان کا کہنا تھا کہ ان کا گھر ایک تنگ گلی میں تھا۔ اس گلی میں کافی لوگ اکھٹے ہو چکے تھے اور سب مشتعل تھے۔ وہ سب لوگ اتنے غصے میں تھے کہ ملزم کی تکا بوٹی کردیں مگر گھر میں خواتین کی موجودگی کی وجہ سے اندر نہیں جا رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے وہاں پرلوگوں سے کہا کہ وہ لوگ اپنے اپنے گھروں میں چلے جائیں۔ میں قانون کا رکھوالا ہوں اور اب میں پہنچ گیا ہوں تو سب کچھ قانون کے مطابق کروں ، قانون سے ماورا کچھ بھی نہیں ہوگا۔ لوگ میری بات تو سن رہے تھے مگر مان نہیں رہے تھے۔ میرے پاس وقت کم تھا۔ تھانے سے مزید نفری نکل چکی تھی۔
یوسف خان کا کہنا تھا کہ مجھے اس موقع پر فیصلہ کرنا تھا، ملزم مسلح تھا وہ گھر میں بھی کسی کو نقصاں پہنچا سکتا تھا اور ہجوم کچھ بھی کر سکتا تھا۔ تب فیصلہ کیا کہ مجھے گھر کے اندر جانا چاہیے۔
لوگوں نے موبائل کا تعاقب کیا۔
یوسف خان بتاتے ہیں کہ ان کے ہمراہ 3 کانسٹیبل موجود تھے۔ جب ہم گھر میں داخل ہوئے اور اس کمرے کے باہر پہنچے جہاں پر ملزم تھا تو اس کے والد نے کہا کہ وہ کمرے میں نہیں جائے گا کہ یہ کچھ بھی کر سکتا ہے جس پر اس کو تسلی دی کہ اب جو بھی کرنا ہے میں خود کروں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے ملزم کو آواز لگائی کہ باہر آجاؤ اور خود کو قانون کے حوالے کر دو ،اس پر ملزم باہر نکل آیا۔ میں نے اس سے پستول لیا ، اب مسئلہ اس کو پولیس موبائل تک پہچانے کا تھا کیونکہ گھر کے باہر مشتعل لوگوں کا ہجوم تھا۔
یوسف خان کہتے ہیں کہ لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا اس موقع پر میں اور میرے ساتھی ملزم کے اردگرد ڈھال بن گئے تاکہ کوئی اسے نقصان نہ پہنچا سکے ، لوگوں سے بھی کہا کہ یہ پولیس کی وردی ہے خیال کرنا کہ اس وردی پر کوئی ہاتھ نہ اٹھائے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں اور میرے ساتھ موجود پولیس اہلکاروں نے بہت تیزی میں ملزم کو موبائل میں ڈال دیا تھا، لوگوں کو فوری طور پر سمجھ نہیں آئی تھی ملزم کو موبائل میں ڈال دیا تو لوگوں کو سمجھ میں آئی اور وہ موبائل کی طرف دوڑے تو میں اور میرے ساتھی اہلکار موبائل سے اتر گئے اور پولیس ڈرائیور سے کہا کہ گاڑی تیز چلاؤ اور ہماری فکر نہ کرو ہم لوگوں کو روکتے ہیں۔
یوسف خان کا کہنا تھا کہ لوگوں نے موبائل پر پتھراؤ شروع کر دیا جبکہ میں اور میرے ساتھیوں نے فی الفور لوگوں کو روکا۔ اس موقع ہر مجھے دھکے لگے، لوگ موبائل کی طر ف دوڑ رہے تھے پتھر مار رہے تھے مگر ڈرائیور کے لیے اتنا وقت بہت تھا وہ گاڑی لے کر نکل گیا تھا۔اس دوران پولیس کی مزید نفری بھی پہنچ گئی۔
ملزم کو محفوظ مقام پر متنقل کیا
ملزم کو بحفاظت نکالنے کے بعد ہجوم مشتعل ہوگیا تھا جس نے چارسدہ روڈ کو دونوں طرف سے بند کر دیا تھا۔ جس پر ہنگامہ آرائی ہوئی اور ایس پی رورل پشاور انعام جان بھی زخمی ہوئے۔
ایس پی رورل انعام جان بتاتے ہیں کہ ان کو تقریباً 9 بجے اطلاع ملی کہ ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس کے بعد انھوں نے پشاور پولیس کو الرٹ کیا اور خود اگلے 15 منٹ میں موقع پر پہنچ گیا ، یہ انتہائی حساس معاملہ تھا اور کچھ بھی ہو سکتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اے ایس آئی یوسف خان سے بات ہوئی اور اس کا حوصلہ بڑھایا اور کہا کہ وہ ملزم کی حفاظت کریں اور لوگوں کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کریں میں پہنچ رہا ہوں۔
انعام جان کہتے ہیں کہ جب میں موقع پر پہنچا تو اس وقت یوسف خان ملزم کو موبائل میں بٹھا رہے تھے اور لوگوں کی بڑی تعداد اکھٹی ہوچکی تھی۔ جبکہ میرے پہچتے اور موبائل کے چلتے مزید نفری اور گاڑیاں بھی موقع پر پہنچ گئی تھیں۔ پولیس نفری نے فوراً یوسف خان اور ان کے ساتھیوں جو کہ اس وقت لوگوں کوموبائل کا تعاقب کرنے سے روک رہے تھے کو وہاں سے نکالا اور لوگوں کو بھی تعاقب سے روک دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں ایسے واقعات ہو چکے تھے جن میں توہین مذہب کے مرتکب لوگوں کو قتل کر دیا گیا اور پولیس بھی انہیں نہ روک سکی تھی جس بنا پر ملزم کو تھانے لے جانے کی بجائے ایک اور محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا اور اس کے لیے ایک انتہائی ذمہ دار اعلیٰ افسرکی ڈیوٹی لگائی، ملزم کا ٹھکانہ صرف اس اعلیٰ افسر اور دو، تین افسران کو ہی معلوم تھا۔
مجبوری میں قانونی کارروائی کی تھی
انعام جان کہتے ہیں کہ اتنی دیر میں بات پھیل گئی تھی لوگ بڑی تعداد میں اکھٹے ہو چکے تھے۔ چارسدہ روڈ کو دونوں اطراف سے بند کر دیا گیا تھا۔ لوگوں نے ٹائروں کو بھی آگ لگا دی تھی۔ اس صورتحال میں پولیس نے علاقے کے منتخب نمائندوں، عمائدین، مذہبی رہنماوں کو دعوت دی کہ پولیس کے ساتھ مزاکرات کریں، ہم تھانے میں ان کے ساتھ مذاکرات کیلئے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمائدین علاقہ اور مذہبی رہنماوں کو بتایا گیا کہ لوگوں کو بتائیں کہ وہ تھانے پر حملہ کرنے سے گریز کریں، ملزم تھانے میں نہیں ہے، انہیں یقین دلایا گیا کہ ملزم کے خلاف مکمل قانونی کارروائی ہوگی۔ اس موقع پر ایک کمیٹی بھی بنائی گئی جو قانونی کارروائی کا جائزہ لے اور دیکھے کہ اگر پولیس کے کام میں غلطی یا کوتاہی ہو تو ہمیں آگاہ کرے۔
انعام جان کا کہنا تھا کہ اس سب کے باوجود مشتعل لوگوں نے تھانے پر حملہ کر دیا جو کہ نا قابل برداشت تھا جس کے بعد پولیس کو مجبوراً لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی کرنی پڑی۔ اس کارروائی کے دوران براہ راست مجھ اور پولیس نفری پر حملے کیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم لوگوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ملزم کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی لیکن قانون کسی کو بھی ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔
