جمعہ, اپریل 4, 2025
ہومٹاپ اسٹوریبنکرز مسمار، سڑکوں پر کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی، کرم میں قیام امن...

بنکرز مسمار، سڑکوں پر کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی، کرم میں قیام امن کیلئے معاہدہ طے پا گیا

قبائلی تصادم میں سینکڑوں افراد کے قتل کے بعد فریقین نے بلآخر 3 ہفتے سے جاری گرینڈ جرگے کے اختتام پر امن معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔

پختونخوا حکومت کی جانب سے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فریقین کی جانب سے بنکرز کی مسماری اور بھاری اسلحے کی حوالگی پر اتفاق کے بعد امن معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں۔

مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ امن معاہدے پر دستخط سے معمولات زندگی جلد مکمل طور پر بحال ہو جائیں گے، زمینی راستے ہفتے کے دن سے بحال ہو جائیں گے۔

معاہدے میں کیا طے پایا؟

فریقین کے درمیان طے پانے والے 14 نکاتی معاہدے کے مندرجات کے مطابق فریقین کے درمیان سیز فائر، مورچوں کا خاتمہ اور اسلحہ جمع کروانے کا معاملات طے ہوئے ہیں۔

معاہدے میں کہا گیا کہ فریقین اپیکس کمیٹی کے فیصلے پر عملدرآمد کے پابند ہوں گے جبکہ فریقین ایک مہینے کے اندر اندر تمام بنکرز ختم کریں گے جس کی نگرانی ذیلی کمیٹی کرے گی۔

تین ہفتوں سے جاری جرگے میں ہونے والے معاہدے پر فریقین کے 45، 45 اراکین نے دستخط کیے، معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

معاہدے کے تحت آمد و رفت کے لیے تمام راستوں اور سڑکوں پر کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی، جن علاقوں سے بجلی، ٹیلیفون یا کیبل گزر چکے ہیں یا مزید گزارے جائیں گے ان پر بھی پابندی نہیں ہوگی جبکہ کوئی رکاوٹ پیش آئی اور نئے روڈ کی ضرورت پڑی تو فریقین مکمل تعاون کریں گے۔

معاہدے کے مطابق سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کرنے والے عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی، معاہدے پر عمل در آمد کیلئے دونوں طرف کے 16 اراکین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

معاہدے میں کردار پر سول و عسکری حکام کا شکر گزار ہوں، وزیراعلیٰ پختونخوا

دوسری جانب امن معاہدے پر رد عمل میں وزیراعلیٰ پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا کہ پرامن حل کے لیے کردار ادا کرنے پر علاقہ عمائدین، فریقین، جرگہ ممبران، کابینہ اراکین، متعلقہ سول و عسکری حکام کا مشکور ہوں، معاہدے پر دستخط سے کرم کا زمینی راستہ کھلنے کی راہ ہموار ہوگئی۔

ان کا کہنا تھا کہ فریقین نے معاہدے پر دستخط کر کے علاقے میں امن کے لیے مثبت کردار ادا کیا جو قابل ستائش ہے، معاہدہ فریقین کے درمیان نفرت پھیلانے والے عناصر کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ علاقے کے لوگ امن پسند ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ فریقین سے اپیل ہے کہ وہ منافرت پھیلانے والے عناصر کومسترد کریں اور اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔

علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ ہمار ی کوشش اور خواہش ہے کہ کرم کے عوام کو درپیش مسائل جلد حل ہوں اور وہاں معمولات زندگی بحال ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ لڑائی اور تشدد کسی بھی مسئلے کا حل نہیں، مسائل اور تنازعات ہمیشہ مذاکرات ہی سے حل ہوتے ہیں، تشدد ہمیشہ تشدد کو جنم دیتا ہے جو فریقین، علاقے اور حکومت کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -

مقبول ترین